بھارت کی مشکلات میں اضافہ، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے نے پاکستان کو کتنا مضبوط بنادیا؟
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ ایک باہمی دفاعی معاہدہ طے کیا ہے۔
امریکی ماہر امورِ خارجہ مائیکل کوگل مین کے مطابق یہ پیشرفت پاکستان کے لیے نہایت اہم ہے کیونکہ سعودی عرب بھارت کا قریبی شراکت دار بھی سمجھا جاتا ہے۔
Pakistan has not only inked a new mutual defense pact, it inked it with a close ally that’s also a top partner of India’s.
— Michael Kugelman (@MichaelKugelman) September 18, 2025
کوگل مین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کی جانے والی اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں اگرچہ بھارت کو پاکستان پر حملے سے باز رکھنے کا امکان کم ہے۔
کوگل مین کے مطابق پاکستان اب 3 بڑی طاقتوں, چین، ترکی اور سعودی عرب کی مکمل حمایت حاصل کرنے کے بعد ایک مضبوط سفارتی و دفاعی پوزیشن میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب اور پاکستان کسی بھی جارح کیخلاف ہمیشہ ایک رہیں گے، سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب جیسے قریبی اتحادی کی شمولیت پاکستان کے لیے خطے میں تزویراتی اہمیت کو مزید بڑھا دے گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک تاریخی دفاعی معاہدہ طے پایا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب نے کے درمیان ہونے والے اس اہم ’تزویراتی باہمی دفاعی معاہدہ‘ کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سلامتی تعاون کو مزید گہرا کرنا اور کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف مشترکہ موقف اختیار کرنا ہے۔
اس معاہدے کی رو سے اگر کسی نے ایک ملک پر حملہ کیا تو اسے دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تاریخی دفاعی معاہدہ، بھارت کا ردعمل بھی سامنے آگیا
معاہدے میں فوجی شراکت، دفاعی صلاحیتوں کی ترقی اور ممکنہ دشمنوں کے خلاف مشترکہ ردعمل جیسے نکات شامل ہیں۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، خصوصاً قطر پر اسرائیلی فضائی حملوں اور فلسطین کی صورتحال کے بعد۔
The Crown Prince and Prime Minister of the Kingdom of Saudi Arabia H.R.H. Muhammad bin Salman bin Abdulaziz Al Saud and Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif exchange the documents of Strategic Mutual Defense Agreement (SMDA) in Riyadh.
#PakistanSaudiPartnership
(17 September… pic.twitter.com/unSTIgQx98
— Prime Minister's Office (@PakPMO) September 18, 2025
مبصرین کے مطابق سعودی عرب کی یہ پیش رفت اس کی عالمی سلامتی شراکت داریوں کو متنوع بنانے کی کوشش کا حصہ بھی ہے، کیونکہ امریکا کی بطور روایتی محافظ حیثیت پر اب کچھ حلقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
اگرچہ معاہدے میں نیوکلیئر ہتھیاروں کا براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا لیکن چونکہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے، اس لیے اس تعاون کے دائرے میں ایسے امکانات پر بھی بات ہو سکتی ہے۔
بھارت نے اس معاہدے پر محتاط ردعمل دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ علاقائی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے، تاہم اس نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ سعودی عرب کے ساتھ اس کے تعلقات میں تبدیلی نہیں لائے گا۔
پاکستان نے اس معاہدے کو دیرینہ دفاعی شراکت داری کی توسیع قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کسی خاص واقعے کا فوری ردعمل نہیں بلکہ ایک پالیسی فریم ورک ہے۔
یہ بھی پڑھیں:‘سعودی ہمارے بھائی ہیں، ہمیشہ کے لیے بھائی’، ترجمان پاک فوج کا پاک سعودی تعلقات کو خراج تحسین
دوسری جانب سعودی عرب نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو بھی برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے تاکہ علاقائی توازن قائم رکھا جا سکے۔
مجموعی طور پر یہ معاہدہ نہ صرف پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو ایک نئی جہت دے رہا ہے بلکہ خطے کی سیاست اور طاقت کے توازن پر بھی گہرے اثرات ڈالنے کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت پاک سعودی معاہدہ پاکستان پاکستان سعودی عرب کوگل مین
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت پاک سعودی معاہدہ پاکستان پاکستان سعودی عرب کوگل مین پاکستان اور سعودی عرب دفاعی معاہدہ سعودی عرب کے اس معاہدے کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔