محمد علی درانی کا پاک سعودی دفاعی معاہدے کا خیر مقدم، دونوں ممالک کے عوام کو مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سینیئر سیاستدان اور سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کی قیادت اور عوام کو مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے اس معاہدے کو اسلامی دنیا اور پاکستان کے لیے افواجِ پاکستان کا ایک تاریخ ساز تحفہ قرار دیا جو پوری امت مسلمہ کے اتحاد اور کامیابیوں کا راستہ ہموار کرے گا۔
محمد علی درانی نے کہا کہ وہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کو خصوصی خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اس دفاعی معاہدے نے پاکستان اور سعودی عرب کے عوام کو ایک نئی خوشی، اعتماد اور جذبہ فراہم کیا ہے، جس پر دونوں ممالک کی قیادت بجا طور پر لائقِ تحسین ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں بھارت کے خلاف معرکۂ حق میں کامیابی کے بعد سعودی عرب کے ساتھ یہ اسٹریٹجک معاہدہ ایک اور تاریخی سنگِ میل ہے۔
محمد علی درانی نے تجویز دی کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کو چاہیے کہ وہ ریٹائر پاکستانی فوجیوں کی ایک مشترکہ فورس تشکیل دیں تاکہ امت مسلمہ کی حفاظت اور برادر اسلامی ممالک کے دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوجی کم عمر میں ریٹائر ہو جاتے ہیں اور دنیا ان کی عسکری مہارت کو تسلیم کرتی ہے۔ یہ ریٹائر فوجی بری، فضائی اور بحری افواج میں بہترین پیشہ ورانہ خدمات انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ سعودی عرب اور قطر کو بھارتیوں کے بجائے پاکستانی محنت کشوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے چاہئیں تاکہ پاکستان کو معاشی مشکلات سے نکالا جا سکے۔ اسی طرح خلیجی ممالک کو چاہیے کہ وہ پاکستان میں تباہ کن سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے بھی فراخدلانہ اقدامات کریں۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: محمد علی درانی
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔