غزہ میں قحط اور عالمی چیخ و پکار کے باوجود امریکہ نے جنگ بندی کی قرار داد چھٹی مرتبہ ویٹو کر دی
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
غزہ میں قحط اور عالمی چیخ و پکار کے باوجود امریکہ نے جنگ بندی کی قرار داد چھٹی مرتبہ ویٹو کر دی WhatsAppFacebookTwitter 0 19 September, 2025 سب نیوز
نیویارک:(آئی پی ایس)
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطین میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کی قرارداد کو امریکہ نے چھٹی بار ویٹو کر دیا جب کہ قرارداد کو دیگر 14 ممالک کی حمایت حاصل تھی۔
یہ فیصلہ اُس وقت سامنے آیا جب غزہ میں قحط کی تصدیق ہو چکی ہے معصوم شہری دم توڑ رہے ہیں، اور امداد پر اسرائیلی پابندیاں تاحال برقرار ہیں۔
یہ قرارداد سلامتی کونسل کے 15 میں سے 10 غیر مستقل رکن ممالک نے تیار کی تھی، جس میں غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کے مطالبے کے ساتھ ساتھ تمام یرغمالیوں کی باعزت رہائی، اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمودی کیلئے نئی مشکل؛ ٹرمپ نے بھارت کو ایرانی بندرگاہ پر دی گئی چھوٹ واپس لے لی مودی کیلئے نئی مشکل؛ ٹرمپ نے بھارت کو ایرانی بندرگاہ پر دی گئی چھوٹ واپس لے لی فینٹانل بنانے والے اجزا کی اسمگلنگ: امریکا نے بھارتی کاروباری افراد کے ویزے منسوخ کردیے اسرائیل اور غزہ کا معاملہ پیچیدہ ہے مگر حل ہوجائے گا، افغانستان سے بگرام ایئربیس واپس لینا چاہتے ہیں، ٹرمپ وزیراعظم شہباز شریف برطانیہ کے 4 روزہ دورے پر لندن پہنچ گئے پیپلزپارٹی کا پنجاب میں زرعی ایمرجنسی نافذ کرنے اور عالمی برادری سے مدد لینے کا مطالبہ پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ: کیا سعودی عرب کے بعد دیگر عرب ممالک بھی حصہ بنیں گے؟Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔