طالبان حکومت نے 8 ماہ بعد معمر برطانوی جوڑے کو رہا کردیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کابل: طالبان کی جانب سے رواں برس فروری میں افغانستان میں گرفتار کیے گئے برطانوی جوڑے کو رہا کر دیا گیا اور وہ جمعے کو قطری ثالثی کے بعد دوحہ روانہ ہوگئے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق 76 سالہ باربی رینالڈز اور ان کے شوہر 80 سالہ پیٹر رینالڈز کی صحت کے بارے میں ان کے اہل خانہ کو سخت خدشات لاحق تھے۔
طیارے میں سوار ہونے سے قبل باربی رینالڈز نے کہا کہ ’اگر ممکن ہوا تو‘ وہ اور ان کے شوہر دوبارہ افغانستان واپس آئیں گے کیونکہ وہ افغان شہری ہیں۔ فی الحال وہ اپنے بچوں اور خاندان سے دوبارہ ملنے کی خواہش مند ہیں۔
خبررساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ ذرائع کے مطابق قطر نے اس جوڑے کے اہل خانہ اور برطانوی حکومت کے تعاون سے طالبان حکام کے ساتھ کئی ماہ تک مذاکرات کیے۔ 8 ماہ کی حراست کے دوران کابل میں قطری سفارتخانے نے اس جوڑے کو مسلسل اہم سہولیات فراہم کیں جن میں ڈاکٹر تک رسائی، ادویات کی فراہمی اور اہل خانہ سے باقاعدہ رابطہ شامل تھا۔
افغان وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ جوڑے نے افغان قوانین کی خلاف ورزی کی تھی، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق ذرائع کا بتانا ہے کہ اس جوڑے کو حکام کو اطلاع دیے بغیر ایک طیارہ استعمال کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ دونوں گزشتہ 18 برس سے افغانستان میں مقیم تھے اور ایک فلاحی پروگرام چلا رہے تھے جس کی طالبان نے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد باضابطہ منظوری دی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جوڑے کو
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔