موجودہ حکومت نے ملک کو پولیس اسٹیٹ میں بدل دیا ، شاہد خاقان عباسی
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے حکومت پنجاب کے حالیہ اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو پولیس اسٹیٹ بنا دیا گیا ہے، جہاں نہ روزگار محفوظ ہے اور نہ ہی اظہارِ رائے کی آزادی باقی رہی ہے۔
مری پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے جھیکاگلی، مال روڈ اور کشمیری بازار جیسے تاریخی کاروباری علاقوں کو مسمار کرنے کے حکومتی فیصلے کو غیر منصفانہ اور عوام دشمن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جھیکاگلی 150 سال پرانا بازار تھا، مگر آج تک کسی حکومتی نمائندے نے یہ وضاحت نہیں کی کہ اسے کیوں گرایا گیا۔ ہزاروں لوگ بے روزگار ہو گئے، اور متاثرین کو نہ کوئی متبادل دیا گیا، نہ معاوضہ۔
انہوں نے کہا کہ وہ خود لوئر ٹوپہ میں ایک پرامن عوامی اجتماع میں شریک تھے، لیکن انتظامیہ نے اس پر دہشتگردی کا مقدمہ درج کر دیا، جو سراسر زیادتی ہے۔
شاہدخاقان عباسی نے مری کے تین مقامی رہنماؤں کو فورتھ شیڈول میں شامل کیے جانے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ واقعی دہشتگرد ہیں؟ یا صرف حکمرانوں کے سیاسی مخالف ہونے کی سزا بھگت رہے ہیں؟”
ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی طرز حکمرانی جاری رہا تو عوام کا صبر جواب دے جائے گا، اور لوگ سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے۔
تعلیم کے شعبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرٹ کا جنازہ نکالا جا رہا ہے، جبکہ منتخب نمائندے بیوروکریسی کے سامنے بے اختیار ہو چکے ہیں۔
مہنگائی کے بحران پر تنقید کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آٹا اور چینی عوام کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں، جبکہ اربوں روپے روزانہ شوگر مافیا کی جیبوں میں جا رہے ہیں — اور وہی لوگ اقتدار کے ایوانوں میں براجمان ہیں۔
سعودی عرب کے ساتھ حالیہ معاہدوں کو انہوں نے وقت کی ضرورت قرار دیا اور کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ حرمین شریفین کی حفاظت کو اعزاز سمجھا ہے۔ تاہم، فلسطین کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اب غزہ یا فلسطین کے حق میں بولنا بھی جرم بنتا جا رہا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عوام کی خودداری اور بنیادی حقوق پر حملے بند نہ ہوئے تو حالات کسی اور سمت جا سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شاہد خاقان عباسی انہوں نے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔