ایم ڈبلیو ایم خیبر پختونخوا کابینہ کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں اہم اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
اجلاس میں صوبہ خیبر پختونخوا کی تنظیمی فعالیت کو مزید مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے صوبے کو شمالی، وسطی اور جنوبی خطوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ خیبر پختونخوا کا اہم اجلاس مرکزی دفتر اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس کی صدارت جماعت کے وائس چیئرمین علامہ سید احمد اقبال رضوی نے کی۔ اجلاس میں صوبائی صدر علامہ جہانزیب جعفری کے ساتھ ساتھ مرکزی چیف آرگنائزز سید ناصر عباس شیرازی، سید اسد عباس نقوی، علامہ وقار رضوی، علامہ نظر حسین، علامہ ارشاد علی، سید ظہیر نقوی، شبیر ساجدی، طاہر حسن، سید جواد کاظمی اور ارشاد حسین بنگش نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبہ خیبر پختونخوا کی تنظیمی فعالیت کو مزید مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے صوبے کو شمالی، وسطی اور جنوبی خطوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تینوں خطوں کے لیے علیحدہ علیحدہ آرگنائزر اور کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں، جن کے نام فائنل کر کے جلد باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
یہ آرگنائزنگ کمیٹیاں اپنے اپنے خطوں میں فوری طور پر فعالیت کا آغاز کریں گی اور ضلعی سطح پر تنظیم سازی کو بھرپور انداز میں آگے بڑھائیں گی۔ شرکائے اجلاس نے صوبائی صدر علامہ جہانزیب جعفری کو مشکل اور کٹھن حالات میں اپنی ذمہ داریاں بخوبی انجام دینے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبر پختونخوا میں ایم ڈبلیو ایم کی تنظیمی جدوجہد کو مزید منظم، فعال اور مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جائے گا تاکہ ملت کی نمائندگی کے سفر کو مزید جِلا بخشی جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا کو مزید
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔