آٹے کی قیمتوں میں اضافہ حکومتی نااہلی کا ثبوت ہے، ریحان راجپوت
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی حلقہ پی ایس 63 لطیف آباد ریحان راجپوت نے کہا ہے کہ آٹے کی قیمتوں میں اضافہ صوبائی حکومت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ حکومت مڈل مین کو مالی طورپر سہولت دینے کیلیے غریب عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ چند روز میں آٹے کی قیمت میں 40 روپے کلو کا اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وڈیرے، جاگیرداروں اور
کرپٹ عناصر پر مشتمل صوبائی حکومت غریب عوام کی فکر ہے اور نہ ہی وہ غریب عوام کو جینے کا حق دینا چاہتے ہیں۔ کچھ ہی روز قبل تک پورے سندھ میں گندم کی فصلوں کی کٹائی ہوئی ہے اور گندم محکمہ خوراک کے گوداموںمیں ٹنوں کے حساب سے موجود ہے لیکن محکمے کے راشی افسران اور صوبائی حکومت گندم کی مصنوعی قلت پیدا کرکے ذخیرہ اندوزوں اور بلیک مارکیٹنگ کرنے والوں کو فائدہ پہنچارہی ہے جبکہ غریب عوام جوکہ پہلے ہی مہنگائی کے ہاتھوں کچلے ہوئے ہیں انہیں مزید غربت اور افلاس میں مبتلا کیا جارہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: غریب عوام
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔