UrduPoint:
2026-06-03@07:36:47 GMT

طالبان کے سائے تلے کابل میں کاسمیٹک سرجری کلینکس کی چمک دمک

اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT

طالبان کے سائے تلے کابل میں کاسمیٹک سرجری کلینکس کی چمک دمک

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 20 ستمبر 2025ء) جھومر، مخملیں صوفے اور جدید مشینری سے آراستہ کاسمیٹک سرجری کلینکس طالبان کے زیر سایہ افغانستان کے سخت گیر ماحول سے یکسر مختلف منظر پیش کرتے ہیں، جہاں بوٹوکس، لپ فلرز اور ہیئر ٹرانسپلانٹ کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

طالبان حکومت کی قدغنوں، سماجی قدامت پسندی اور ملک میں ہر جانب پھیلی غربت کے باوجود کابل میں ایسے تقریباً 20 کلینکس کھل چکے ہیں، جو جنگوں کے خاتمے کے بعد تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔

ان میں ترک ماہرین افغان ڈاکٹروں کو تربیت دیتے ہیں اور کئی افغان استنبول میں انٹرن شپ کرتے ہیں، جبکہ ان کلینکس میں استعمال کے لیے آلات ایشیا اور یورپ سے درآمد کیے جاتے ہیں۔

انتظار گاہوں میں زیادہ تر خواتین موجود ہوتی ہیں، اگرچہ مرد بھی ہیئر ٹرانسپلانٹ کے لیے آتے ہیں۔

(جاری ہے)

خواتین مکمل پردے میں آتی ہیں، کبھی کبھار برقعے میں، لیکن چہرے پر میک اپ نمایاں ہوتا ہے۔

25 سالہ سِلسلہ حمیدی نے اپنا دوسرا فیس لفٹ کروایا۔ ان کا کہنا تھا، ''اگرچہ دوسرے ہمیں نہیں دیکھتے لیکن ہم خود کو دیکھتے ہیں، آئینے میں خوبصورت لگنا ہمیں توانائی فراہم کرتا ہے۔‘‘

طالبان حکومت نے خواتین کو یونیورسٹیوں، دفاتر، پارکس اور جم میں جانے سے روک رکھا ہے اور سفر کے لیے محرم کی شرط عائد ہے، تاہم سرجیکل کاسمیٹک علاج پر بظاہر پابندی نہیں۔

حکام اسے ''طب‘‘ تصور کرتے ہیں لیکن اخلاقی پولیس اس بات کی نگرانی کرتی ہے کہ مرد مریض کے ساتھ مرد اور خاتون کے ساتھ خاتون عملہ موجود ہو۔

کلینکس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ طالبان بھی گاہکوں میں شامل ہیں۔ ایک کلینک کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے مطابق، ''داڑھی یا بال نہ ہونا کمزوری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔‘‘ طالبان کی ہدایت کے بعد کہ مردوں کی داڑھی کم از کم ایک مُٹھی جتنی لمبی ہونا چاہیے، ٹرانسپلانٹ کا رجحان بڑھ گیا ہے۔

کلینکس میں بوٹوکس کی قیمت 43 سے 87 ڈالر اور ہیئر ٹرانسپلانٹ کی 260 سے 509 ڈالر تک ہے، جو عام افغانوں کے لیے خطیر رقوم ہیں۔ لیکن بعض لوگ شادی سے قبل قرض لے کر بھی یہ سرجری کراتے ہیں۔

لندن میں مقیم افغان ریسٹورنٹ کے مالک محمد شعیب یارزادہ نے برطانیہ میں زیادہ اخراجات سے بچنے کے لیے 14 برس بعد وطن واپسی پر ہیئر ٹرانسپلانٹ کرایا۔

ان کے بقول ''کلینک میں داخل ہوتے ہی ایسا لگتا ہے جیسے میں یورپ میں ہوں۔‘‘

یہ کلینکس انسٹاگرام پر اشتہارات کے ذریعے نئے گاہک بناتے ہیں، جہاں جھریوں سے پاک چہرے اور گھنے بال دکھائے جاتے ہیں۔ ایک روسی نژاد افغان ڈاکٹر کے مطابق ''اکثر مریض حقیقی مسئلے کے بغیر صرف انسٹاگرام پر دیکھے گئے رجحانات کی وجہ سے سرجری چاہتے ہیں۔‘‘

اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں ایک کروڑ افراد بھوک کا شکار ہیں اور ہر تین میں سے ایک کو بنیادی طبی سہولیات دستیاب نہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ کھانے کے بجائے اپنی خوبصورتی پر سرمایہ لگانا پسند کرتے ہیں۔

ادارت: مقبول ملک

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ہیئر ٹرانسپلانٹ کرتے ہیں کے لیے

پڑھیں:

بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال

ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔

اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
  • اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار
  • اداکارہ میرب علی کو اچانک سرجری کیوں کروانا پڑی؟ اصل وجہ سامنے آگئی
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی