انٹرنیٹ کا مسئلہ حل کرنے کیلئے حکومت نے بڑا قدم اٹھا لیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار میں اگلے 12 سے 18 ماہ میں تیزی آنے کی توقع ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کے اجلاس میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن نے تصدیق کی کہ پاکستان آئندہ 12 سے 18 ماہ میں تین نئی سب میرین کیبلز کے ذریعے عالمی نیٹ ورک سے منسلک ہو جائے گا۔ وزارت کے حکام کے مطابق نئی سب میرین کیبلز پاکستان کو براہ راست یورپ سے جوڑ دیں گی جس سے موجودہ محدود راستوں پر انحصار کم ہوگا اور ملک کا انٹرنیٹ انفراسٹرکچر مضبوط ہوگا۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے سیکرٹری ضرار ہاشم خان نے کہا کہ یہ منصوبے بینڈوڈتھ کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کریں گے اور صارفین کے لیے ایک مستحکم اور قابل اعتماد انٹرنیٹ سروس کو یقینی بنائیں گے۔ کمیٹی کے رکن صادق میمن نے انٹرنیٹ کے حالیہ مسائل پر سوال اٹھایا جس پر وزارت آئی ٹی نے یقین دہانی کرائی کہ نئی سب میرین کیبلز کی آمد سے طویل مدتی رابطوں کے مسائل حل ہوں گے اور آن لائن خدمات میں بہتری آئے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔