فتنۃ الہندوستان کا آپریشنل کمانڈر افغانستان میں پراسرار طور پر ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
فتنۃ الہندوستان کا دہشتگرد گل رحمان عرف استاد مرید افغانستان میں پراسرار طور پر ہلاک ہوگیا۔
رپورٹ کے مطابق ذرائع نے کہا کہ گل رحمان عرف استاد مرید جعفر ایکسپریس حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا، بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا کے مطابق فتنۃ الہندوستان کا دہشتگرد افغانستان کے صوبے ہلمند میں17 ستمبر 2025 کو ہلاک ہوا، دہشتگرد گل رحمان فتنۃ الہندوستان( مجید بریگیڈ) کا ٹرینر اور آپریشنل کمانڈر تھا۔
ذرائع نے کہا کہ دہشتگرد گل رحمان پاکستانی سیکیورٹی فورسز، چینی شہریوں، معصوم شہریوں اور مختلف اداروں پر حملوں میں ملوث تھا، فتنۃ الہندوستان نے پاکستان کے نہتے معصوم شہریوں، سیکیورٹی فورسز اور سی پیک منصوبوں کو نشانہ بنایا۔
ذرائع کے مطابق فتنۃ الہندوستان نے جعفر ایکسپریس، کراچی میں چینی قونصلیٹ اور گوادر پی سی ہوٹل میں دہشتگردانہ کارروائیاں کیں۔
فتنۃ الہندوستان نے خضدار اسکول بس دھماکا، کراچی میں کنفیوشس انسٹیٹوٹ خود کش دھماکا، پاکستان اسٹاک ایکسچینج حملہ اور کوئٹہ ریلوے اسٹیشن میں دہشتگردانہ کارروائیاں کیں، امریکا فتنۃ الہندوستان کے مجید برگیڈ کو عالمی دہشتگرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور چین نے فتنۃ الہندوستان کے مجید برگیڈ کو اقوام متحدہ کی دہشتگرد فہرست میں ڈالنے کا مطالبہ کیا، فتنۃ الہندوستان کے دہشتگرد کی ہلاکت اس بات کا ثبوت ہے کہ افغان سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فتنۃ الہندوستان گل رحمان کے مطابق
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔