خیبر میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، فائرنگ کے تبادلے میں تین دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
ترجمان سی ٹی ڈی نے بتایا کہ خفیہ اطلاع ملنے پر سی ٹی ڈی کی ٹیم جدید ہتھیاروں سے لیس ہو کر جیسے ہی مقام پر پہنچی تو دہشت گردوں نے گھات لگا کر شدید فائرنگ شروع کر دی تاہم اپنی حفاظت اور دہشت گردوں کو قابو کرنے کے لیے اہلکاروں نے بھرپور جوابی کارروائی کی جو تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہی۔ اسلام ٹائمز۔ ضلع خیبر کے حساس علاقے لالہ چینہ دوسارکے علی مسجد میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے کارروائی کرتے ہوئے تین خطرناک دہشت گردوں کو ہلاک کیا اور ان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کرلیا۔ ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق خیبر میں کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں محمد نعیم عرف عبدالناصر اور محمد کریم شامل ہیں جو کرک کے رہائشی اور چمکنی خودکش دھماکے کے ماسٹر مائنڈ تھے اور تیسرا دہشت گرد نور نبی افغانستان کے صوبہ ننگرہار سے تعلق رکھتا تھا۔ بیان میں کہا گیا کہ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے تین ایس ایم جیز، بارہ میگزین، 135 کارتوس اور تین بنڈولیئر بھی برآمد ہوئے۔ ترجمان سی ٹی ڈی نے بتایا کہ خفیہ اطلاع ملنے پر سی ٹی ڈی کی ٹیم جدید ہتھیاروں سے لیس ہو کر جیسے ہی مقام پر پہنچی تو دہشت گردوں نے گھات لگا کر شدید فائرنگ شروع کر دی تاہم اپنی حفاظت اور دہشت گردوں کو قابو کرنے کے لیے اہلکاروں نے بھرپور جوابی کارروائی کی جو تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہی۔
انہوں نے بتایا کہ بعدازاں علاقے کو کلیئر کرنے کے دوران تین لاشیں برآمد ہوئیں جبکہ مطلوب ترین کمانڈر فضل نور اپنے چند ساتھیوں سمیت موقع سے فرار ہوگیا۔ سی ٹی ڈی حکام کے مطابق دہشت گرد کسی بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے جسے بروقت ایکشن لے کر ناکام بنا دیا گیا۔ مزید بتایا گیا کہ علاقے میں بھاری نفری کی موجودگی میں سرچ آپریشن جاری ہے اور فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے گھیراؤ مزید سخت کر دیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سی ٹی ڈی
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔