پشاور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 ستمبر2025ء ) صوبہ خیبرپختونخواہ کے ضلع خیبر میں سی ٹی ڈی کی کارروائی میں فتنہ الخوارج کے خلاف 3 دہشت گرد مارے گئے۔ ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق یہ کارروائی ضلع خیبر کے علاقے لالہ چینہ دو سار میں کی گئی جہاں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، وہاں کارروائی کے دوران مارے جانے والے دہشت گرد خودکش دھماکوں اور دیگر سنگین دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

ترجمان سی ٹی ڈی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے تین ایس ایم جیز، بارہ میگزین، 135 کارتوس اور تین بنڈولیئر برآمد کیے گئے، ہلاک دہشت گردوں میں سے ایک افغان شہری بھی شامل ہے، ہلاک دہشت گرد نعیم چمکنی جو خودکش دھماکے کا ماسٹر مائنڈ تھا، وہ بھی اس کارروائی میں مارا گیا۔

(جاری ہے)

سی ٹی ڈی ترجمان نے بتایا کہ دہشت گرد کمانڈر فضل نور ساتھیوں کے ہمراہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا جس کی گرفتاری کے لیے علاقے میں چھاپے مارے جا رہے ہیں، یہ دہشت گرد بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے جسے بروقت کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا، علاقے میں بھاری نفری تعینات کرکے سرچ آپریشن جاری ہے اور فرار دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے محاصرہ مزید سخت کر دیا گیا۔

دوسری طرف صوبہ بلوچستان کے ضلع خضدار میں سکیورٹی فورسز نے آپریشن کرتے ہوئے 4 بھارتی سپانسرڈ دہشتگرد ہلاک کردیئے۔ مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کا کہناتھاکہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے بلوچستان کے ضلع خضدار میں انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشن کیا گیا جہاں سکیورٹی فورسز سے فائرنگ کے تبادلے میں 4 بھارتی سپانسرڈ دہشتگرد مارے گئے، مارے جانے والے یہ دہشت گرد مختلف دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے جن کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ باردو برآمد کیا گیا۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سی ٹی ڈی

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • کراچی: ملیر 15 میں رینجرز اور ایس آئی یو کی کارروائی، 3 بھتہ خور ہلاک
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار