پاک سعودیہ معاہدے کا دائرہ کار 6 ملکوں تک وسیع ہو سکتا ہے، سلمان غنی
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
پاکستان کے ممتاز صحافی کا کہنا ہے کہ دفاعی معاہدہ بظاہر تو پاکستان اور سعودی عرب کا ہے، مگر اطلاعات ہیں یہ خلیج کے چھ ملکوں تک وسیع ہو گا اور یہ سلسلہ ایک بلاک میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے عالمی طاقتوں کیلئے بھی اس معاہدے کو اہم قرار دیا اور کہا مشرق وسطیٰ کے دروازے پر پاکستان کی عسکری دستک ہضم ہو پائیگی یہ دیکھنا ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ سینیئر صحافی سلمان غنی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین ہونیوالے دفاعی معاہدے کا دائرہ کار چھ ملکوں تک وسیع ہوسکتا ہے۔ سوشل میڈیا سائٹ ایکس پراپنے ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ خلیج میں سعودی عرب کی پوزیشن لیڈر کی ہے اور اس کا فیصلہ ہی رخ متعین کرتا ہے۔ دفاعی معاہدہ بظاہر تو پاکستان اور سعودی عرب کا ہے، مگر اطلاعات ہیں یہ خلیج کے چھ ملکوں تک وسیع ہو گا اور یہ سلسلہ ایک بلاک میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے عالمی طاقتوں کیلئے بھی اس معاہدے کو اہم قرار دیا اور کہا مشرق وسطیٰ کے دروازے پر پاکستان کی عسکری دستک ہضم ہو پائیگی یہ دیکھنا ہو گا۔
ادھر ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا پچھلے کچھ عرصے میں پاکستان کیلئے شر میں سے خیر نکلی ہے، پہلگام واقعہ پاکستان کو پھنسانے کیلئے تھا، لیکن اب اس وقت نریندر مودی اور ان کے بھارت کی حالت دیکھ لیں، قطر پر اسرائیلی حملہ بھی بڑا شر تھا، در اصل یہ عرب ممالک کیلئے ایک پیغام تھا، ان دونوں واقعات سے پاکستان کا بڑا کردار سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا قطر کانفرنس میں وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں یہ بات باور کروائی کہ اسرائیل کی اس حرکت پر اس کو جوابدہ ٹھہرانا ہے اور سلامتی کونسل میں سے اسرائیل کی رکنیت ختم کرانے کی کوشش کرنی ہے۔ سلمان غنی نے کہا سعودی عرب سے ہمارے بہت پرانے تعلقات ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ اس معاہدے کے اثرات ہمارے خطے پر بھی ہیں اور سات سمندر پار بھی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔