اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 20 ستمبر 2025ء) مقامی میڈیا کی طرف سے ہفتے کے روز سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق سعودی عرب کے اعلیٰ سطحی تجارتی وفد کے اس دورے کا مقصد پاکستان کی خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کے ذریعے سعودی مملکت کے ساتھ سرمایہ کاری اور تجارت کو فروغ دینا ہے۔

ریاض اور اسلام آباد نے 17 ستمبر کوباہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس سے دہائیوں پرانی سکیورٹی شراکت داری کو نمایاں طور پر مضبوط کیا گیا۔

یہ معاہدہ اس وقت ہوا جب اسرائیل کے قطر پر حملوں کے بعد خطے کی سفارتی اور سکیورٹی صورتحال میں بڑی تبدیلی آئی۔ سعودی تجارتی وفد کے دورے کی تیاریاں

دی نیوز انٹرنیشنل کے ذرائع کے مطابق اعلیٰ سطحی سعودی تجارتی وفد کے پاکستان کے دورے کی تیاریوں کے ضمن میں اسلام آباد میں سعودی سفارت خانے کے سینئر حکام نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) کے صدر میاں ابوذر شاد سے ملاقات کی۔

(جاری ہے)

اس موقع پر سعودی کمرشل اتاشی نائف بن عبدالعزیز الحربی نے اعلان کیا کہ مملکت ایل سی سی آئی میں ایک خصوصی کمرشل ڈیسک قائم کرے گی، جس کا مقصد دو طرفہ تجارتی اقدامات کو آسان بنانا اور کاروباری روابط کو فروغ دینا ہے۔

الحربی نے پاکستان کی اُن معاشی صلاحیتوں جنہیں ہنوز بروئے کار نہیں لایا گیا، کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کی خاطر ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہپاکستانی مصنوعات کی براہ راست سعودی عرب برآمدات کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جس سے یورپ سمیت تیسرے فریق کے ذریعے برآمدات کی ضرورت ختم ہو جائے گی، اس طرح لاگت میں کمی اور کارکردگی میں بہتری آئے گی۔

امداد سے زیادہ تجارت پر زور

سعودی کمرشل اتاشی نائف بن عبدالعزیز الحربی نے کہا ، ''ہمارا مقصد ایسی منظم پالیسیاں بنانا ہے جو نہ صرف اقتصادی تعاون کو مضبوط کریں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان عوام کے عوام کے ساتھ روابط کو بھی بہتر بنائیں۔

‘‘

دی نیوز انٹرنیشنل کے ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ دورے کے دوران سعودی وفد پنجاب بھر کی اہم کاروباری شخصیات سے بھی ملاقاتیں کرے گا۔ پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ اور لاہور چیمبر آف کامرس کے اشتراک سے خصوصی سیشنز کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ صوبہ بھر کے چیمبرز کے نمائندوں کو ایل سی سی آئی میں اکٹھا کیا جائے گا تاکہ وہ سعودی کاروباری رہنماؤں سے بات چیت کر سکیں۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے لاہور چیمبر کے صدر میاں ابوذر شاد نے امداد سے زیادہ ''تجارت‘‘ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہپاکستان کو امداد کی ضرورت نہیں بلکہ تجارت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے میری ٹائم فیری سروس کو بحال کرنے کی تجویز بھی پیش کی جو 1960 کی دہائی میں دونوں ممالک کے درمیان چلنے والی نقل و حرکت کو آسان بنانے اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے تھی۔

ادارت: افسر اعوان

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم