مصطفی کمال نے میڈیا کے سامنے اپنی بیٹی کو HPV ویکسین لگواکر گمراہ کن پروپیگنڈا مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
کراچی:
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے اپنی بیٹی کو اینٹی سروائیکل کینسر ویکسین لگوا کر ویکسین سے متعلق پھیلائی جانے والی افواہوں کو مسترد کردیا۔
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب میں مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ سروائیکل ویکسین کو لے کر گمراہ کن پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، میں نے اپنی بیٹی رجا کمال کو سب کے سامنے ویکسین لگوا کر یہ ثابت کیا ہے کہ یہ ویکسین محفوظ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اپنے 30 سالہ سیاسی کیریئر میں میں نے کبھی اپنی فیملی کو اسکرین پر نہیں لایا، لیکن گمراہ کن افواہوں کو ختم کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ مجھے اپنی بیٹی کی طرح قوم کی تمام بیٹیاں عزیز ہیں، ہمارا مقصد اللہ کی رضا کے لیے قوم کو بیماریوں سے محفوظ رکھنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے موجودہ نظام میں ہر پاکستانی کا علاج ممکن نہیں، لوگ اسپتالوں میں داخل ہو کر وہیں رک جاتے ہیں، اس لیے ہمیں بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن کو فروغ دینا ہوگا۔
وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ مستقبل میں مزید ویکسینز آئیں گی اور ہمیں اپنی قوم کو بیماریوں سے بچانے کے لیے انہیں اپنانا ہوگا۔ کینسر ایک موذی مرض ہے جو صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورے گھرانے کو متاثر کرتا ہے، اس لیے بچاؤ ہی بہترین راستہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ اپنی بیٹی کے لیے
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔