کراچی کی تقسیم جائز ہے توسندھ کی غلط کیسے؟ پنجاب میں صوبہ بن سکتاہے توسندھ میں کیوں نہیں؟ خالد مقبول
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
وفاقی وزیرِ تعلیم خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ کراچی کی تقسیم جائز ہے تو سندھ کی تقسیم غلط کیسے ہے؟ پنجاب اور کے پی کے میں صوبے بن سکتے ہیں تو سندھ میں صوبہ کیوں نہیں بن سکتا، مرتضی وہاب کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں، مرتضیٰ وہاب پر ان کی اپنی پارٹی بھی اعتماد نہیں کرتی۔
خالد مقبول صدیقی نے کراچی چیمبر آف کامرس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا یہاں موجود ہے، صرف اتنا سچ بولوں گا جتنی جمہوریت آزاد ہے کیونکہ میں نے نصف زندگی جلا وطنی میں گزاری ہے، جماعت اسلامی کا مشکور ہوں کہ ہمارے سب کافرانہ نعرے اب آپ کے بینرز پر آویزاں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی دنیا میں فلاح وبہبود کا دارالحکومت ہے، کراچی دنیا کی مدد کررہا ہے لیکن کراچی کی کوئی مدد نہیں کررہا ہے، ماضی میں امریکی صدر لندن بی جانسن نے پاکستان اور بھارت کا دورہ کیا، بھارت نے لندن بی جانسن سے ایم آئی ٹی یونیورسٹی کا مطالبہ کیا اور پاکستان نے گندم مانگی، ان مطالبات کا نتیجہ آج آپ کے سامنے ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہمیں وہ فیکٹریاں لگانی ہیں جو علم سے دانش کو کشید کرسکیں، دنیا کی بڑی کمپنیاں تو اب ڈگری کا مطالبہ ہی نہیں کررہی ہیں، رئیس امروہوی نے 60 کی دہائی میں ایم کیو ایم سے پہلے ہی کراچی میں یومِ سیاہ پر اشعار لکھے۔
ان کا کہنا تھا کہ سید مودودی اور شاہ احمد نورانی دونوں کراچی سے تھے، کراچی میں ہر برینڈ کی مسلم لیگ موجود تھی، کراچی میں دودھ اور شہر کی نہریں بہتی تھیں تو ہم کہاں سے آگئے، 1993میں ایم کیو ایم نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا تب کون سے حالات بہتر ہوئے؟
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ 2013 میں ایم کیو ایم کے 24 نمائندے تھے اور 2018 میں محض 7 نشستیں تھیں، پی ٹی آئی کے کسی ایک نمائندے نے بھی کراچی کیلئے آواز بلند کی؟
کراچی میں شناخت کا بحران پیدا ہوگیا ہے، 1972 کی نینشنلائزیشن فیوڈلائزیشن تھی، پاکستان کی صنعت کو جاگیرداروں کے ہاتھ سونپ دیا گیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ لسانیت کی بنیاد پر مہاجروں نے سب سے آخر میں تنظیم بنائی، بھٹو صاحب نے کوٹہ سسٹم سندھ میں لاگو کیا، پنجاب کے کسانوں کی انہیں فکر کیوں نہ ہوئی؟
17 سال سے حکومت ایم کیو ایم کے پاس نہیں ہے، اقوامِ متحدہ اور عالمی بینک کراچی کو زندگی کے قابل شہر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، کلِک جیسے پروگرام شروع کیے جارہے ہیں، 1970 اور 2008 سے قبل پاکستان بہتر تھا، بعد میں ایسا کیا ہوگیا۔
ڈاکٹر خالد مقبول نے کہا کہ ملک میں تجارتی خسارہ نہیں ہے البتہ اعتماد کا کا خسارہ ضرور ہے، پاکستان میں معاشی نہیں نیتوں کا بحران ہے، مالی دیوالیہ کو رو رہے ہیں ہمارا اخلاقی زوال ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فن لینڈ نے پروگرام دیا جن صاحب کو کراچی نے ووٹ دیا ان کی میز پر وہ پڑا رہا، اسلام آباد کچھ نہیں کریگا، کراچی چیمبر آئے تعلیم میں شراکت داری کرے، عوام جو ٹیکس ادا کرتے ہیں اس سے ارکانِ قومی اسمبلی کو تنخواہیں ملتی ہیں، عوام کے ٹیکس کا پیسہ ان کی بجائے کہیں اور کیوں لگتا ہے آخر؟
انہوں نے کہا کہ تعلیم ہی آخری راستہ ہے، کہا جاتا ہے کہ ایم کیو ایم بھتے لیتی ہے،
چندے اور بھتے میں صرف رویے اور پالسیی کا فرق ہے، فلسفی سقراط نے 2500 سال قبل کہا تھا کہ آپ کی شناخت ہی آپ کا مقدر ہے، پورا ملک ہمیں مہاجر کہہ رہا تھا اور ہم خود کو مہاجر نہیں کہہ رہے تھے۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان میں 35 سال سے کم عمر افراد کی آبادی 18 کروڑ ہے اور 30 سال سے کم عمر کے لوگ 15 کروڑ ہیں، سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی نوجوان آبادی کو تعلیم اور روزگار کون دے گا؟ ہمارے پاس سوائے ہیومن کیپیٹل کے کوئی بڑی ایکسپورٹ کا ذریعہ نہیں ہے۔
وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ آئین کی 50ویں سالگرہ پر مجھے بلایا گیا، مجھے یہ بتا دیں آئیں سے پہلے والا پاکستان اچھا تھا یا بعد کا؟ جب آئین پاس ہو رہا تھا تو قومی اسمبلی کے 55 فیصد لوگ موجود ہی نہیں تھے، 1970 کے الیکشن میں جو ہارا وہ پاکستان کا وزیراعظم بن گیا۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم ایسے صوبے میں رہتے ہیں جہاں ان کا مطالبہ ہے کہ ہم نہ پڑھیں، ہم کراچی میں تین یونیورسٹیاں لے کر آئے ہیں، ہمارے پاس کراچی کا 85 فیصد مینڈیٹ ہے لیکن ہمارے پاس کراچی کی زمین نہیں ہے، 2018 میں جب انقلاب آیا تو صدر اور وزیراعظم یہیں سے منتخب ہوئے تھے، کراچی والوں نے یونیورسٹیوں کا مطالبہ کیوں نہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ 22 اگست کے بعد والی مردم شماری ایم کیو ایم نے کروائی تھی، کراچی کا مسئلہ ایک ماہ میں حل کر سکتے ہیں، کراچی میں گندم ساڑھے 3 کروڑ لوگوں کیلئے آتی ہے اور آبادی ڈیڑھ کروڑ بتائی جاتی ہے، 20 سالوں میں سب سے زیادہ اربنائزیشن کراچی میں ہوئی ہے، کابل سے زیادہ افغانی کراچی میں رہتے ہیں، مردم شماری میں گمشدہ ہوئے آدھے افراد کو بازیاب کروا لیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ تو پاکستان کے سو بڑے مسائل میں ہے ہی نہیں تو اس پر بات کیوں کریں؟ کسی قوم کو کرکٹ اتنی مہنگی نہیں پڑی جتنا ہمیں ورلڈ کپ پڑا، خود اندازہ لگا لیں کہ ہمیں ورلڈ کپ کتنا مہنگا پڑا۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ جنگ اور محبت میں ہی نہیں، سیاست میں بھی ہر چیز جائز ہے، کراچی میں 100 غیر رسمی اسکول شروع کروا دیے ہیں، بزنس کمیونٹی سے گزارش ہے کہ وہ ان کو چلانے کی ذمہ داری لیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 30 سے 35 سالوں میں دنیا میں اتنی شدید تبدیلی رونما ہوگی کہ 1 ارب لوگ غیر متعلقہ ہو جائیں گے، ایم کیو ایم ملک دشمن اس لیے قرار پاتی ہے کہ وہ صوبوں کا مطالبہ کرتی ہے، پاکستان دھرتی ماں ہے کوئی صوبہ دھرتی ماں نہیں ہے، کیا اس میں کوئی متنازع بات ہے، یہ تو آئین میں موجود ہے، جب ضلع اور ڈویژن بڑھتے چلے گئے تو صوبے کیوں نہ بڑھے؟
انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد صوبے خود کو ملک تصور کرنے لگے، مردم شماری ہر 5 سال بعد کروانے کا مطالبہ ہم سب کو مل کر کرنا چاہیے، صوبے کے مطالبے کو غداری قرار دینا خود سب سے بڑی غداری ہے۔
ان کا کہنا تھا آج کراچی کے جو حالات ہیں، اس میں قومی اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے، اتنے بڑے اتفاقِ رائے کے دوران کراچی والوں کو بھی اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایم کیو ایم کے بنائے گئے اسکول 17 سال سے ویران پڑے ہیں
ہم نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ایسی جمہوریت کی ہمیں ضرورت نہیں جس کے ثمرات عام پاکستانی کو نہ پہنچیں، پاکستان کی سیاست کے جمعہ بازار کے ساتھ ہم آہنگ ہونا آسان ہے، تاہم ہم نے مشکل راستہ چنا، ایم کیو ایم واحد ایسی جماعت ہے جو خاندانی نہیں ہے، میرے ہونے نہ ہونے سے ایم کیو ایم کو کوئی فرق نہیں پڑتا، ایک اور بھی ایسی جماعت ہے جس کا اگر لیڈر نہ ہو تو وہ کچھ بھی نہیں ہوگی۔
وزیر تعلیم نے کہا کہ کراچی کی مردم شماری، حلقہ بندی اور ووٹر لسٹ کو درست کروانے کا مطالبہ کیا جائے، کراچی کے پانی اور نکاسی کے منصوبے فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال کے دیے گئے ہیں، پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں کراچی کا سب سے سنہرا دور 1990ء سے 1992ء تک کا تھا، بہت سے لوگوں کو کراچی کا امن نہیں بدامنی بہتر لگتی ہے، آگمینٹیشن اگر نہ آئی تو ٹینکر مافیا ارب پتی سے کھرب پتی بن جائے گا۔
خالد مقبول کا کہنا تھا کہ کراچی کی تقسیم جائز ہے تو سندھ کی تقسیم غلط کیسے ہے؟ پنجاب اور کے پی کے میں صوبے بن سکتے ہیں تو سندھ میں صوبہ کیوں نہیں بن سکتا، مرتضی وہاب کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں، مرتضیٰ وہاب پر ان کی اپنی پارٹی بھی اعتماد نہیں کرتی۔
ان کا کہنا تھا کہ بجلی کے مسئلے پر ایم کیو ایم نے 11 پریس کانفرنس کی ہیں، 1972 میں 67 لاکھ کی آبادی مردم شماری میں 36 لاکھ کردی گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کا مطالبہ کراچی میں کی تقسیم کراچی کا کراچی کی نہیں ہے کیوں نہ جائز ہے تو سندھ ہی نہیں سال سے
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔