وفاقی وزیرِ تعلیم خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ کراچی کی تقسیم جائز ہے تو سندھ کی تقسیم غلط کیسے ہے؟ پنجاب اور کے پی کے میں صوبے بن سکتے ہیں تو سندھ میں صوبہ کیوں نہیں بن سکتا، مرتضی وہاب کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں،  مرتضیٰ وہاب پر ان کی اپنی پارٹی بھی اعتماد نہیں کرتی۔

خالد مقبول صدیقی نے کراچی چیمبر آف کامرس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا یہاں موجود ہے، صرف اتنا سچ بولوں گا جتنی جمہوریت آزاد ہے کیونکہ میں نے نصف زندگی جلا وطنی میں گزاری ہے، جماعت اسلامی کا مشکور ہوں کہ ہمارے سب کافرانہ نعرے اب آپ کے بینرز پر آویزاں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی دنیا میں فلاح وبہبود کا دارالحکومت ہے، کراچی دنیا کی مدد کررہا ہے لیکن کراچی کی کوئی مدد نہیں کررہا ہے، ماضی میں امریکی صدر لندن بی جانسن نے پاکستان اور بھارت کا دورہ کیا، بھارت نے لندن بی جانسن سے ایم آئی ٹی یونیورسٹی کا مطالبہ کیا اور پاکستان نے گندم مانگی، ان مطالبات کا نتیجہ آج آپ کے سامنے ہے۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہمیں وہ فیکٹریاں لگانی ہیں جو علم سے دانش کو کشید کرسکیں، دنیا کی بڑی کمپنیاں تو اب ڈگری کا مطالبہ ہی نہیں کررہی ہیں، رئیس امروہوی نے 60 کی دہائی میں ایم کیو ایم سے پہلے ہی کراچی میں یومِ سیاہ پر اشعار لکھے۔

ان کا کہنا تھا کہ سید مودودی اور شاہ احمد نورانی دونوں کراچی سے تھے، کراچی میں ہر برینڈ کی مسلم لیگ موجود تھی، کراچی میں دودھ اور شہر کی نہریں بہتی تھیں تو ہم کہاں سے آگئے، 1993میں ایم کیو ایم نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا تب کون سے حالات بہتر ہوئے؟

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ 2013 میں ایم کیو ایم کے 24 نمائندے تھے اور 2018 میں محض 7 نشستیں تھیں، پی ٹی آئی کے کسی ایک نمائندے نے بھی کراچی کیلئے آواز بلند کی؟
کراچی میں شناخت کا بحران پیدا ہوگیا ہے، 1972 کی نینشنلائزیشن فیوڈلائزیشن تھی، پاکستان کی صنعت کو جاگیرداروں کے ہاتھ سونپ دیا گیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ لسانیت کی بنیاد پر مہاجروں نے سب سے آخر میں تنظیم بنائی، بھٹو صاحب نے کوٹہ سسٹم سندھ میں لاگو کیا، پنجاب کے کسانوں کی انہیں فکر کیوں نہ ہوئی؟
17 سال سے حکومت ایم کیو ایم کے پاس نہیں ہے، اقوامِ متحدہ اور عالمی بینک کراچی کو زندگی کے قابل شہر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، کلِک جیسے پروگرام شروع کیے جارہے ہیں، 1970 اور 2008 سے قبل پاکستان بہتر تھا، بعد میں ایسا کیا ہوگیا۔

ڈاکٹر خالد مقبول  نے کہا کہ ملک میں تجارتی خسارہ نہیں ہے البتہ اعتماد کا کا خسارہ ضرور ہے، پاکستان میں معاشی نہیں نیتوں کا بحران ہے، مالی دیوالیہ کو رو رہے ہیں ہمارا اخلاقی زوال ہو چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فن لینڈ نے پروگرام دیا جن صاحب کو کراچی نے ووٹ دیا ان کی میز پر وہ پڑا رہا، اسلام آباد کچھ نہیں کریگا، کراچی چیمبر آئے تعلیم میں شراکت داری کرے، عوام جو ٹیکس ادا کرتے ہیں اس سے ارکانِ قومی اسمبلی کو تنخواہیں ملتی ہیں، عوام کے ٹیکس کا پیسہ ان کی بجائے کہیں اور کیوں لگتا ہے آخر؟

انہوں نے کہا کہ تعلیم ہی آخری راستہ ہے، کہا جاتا ہے کہ ایم کیو ایم بھتے لیتی ہے،
چندے اور بھتے میں صرف رویے اور پالسیی کا فرق ہے، فلسفی سقراط نے 2500 سال قبل کہا تھا کہ آپ کی شناخت ہی آپ کا مقدر ہے، پورا ملک ہمیں مہاجر کہہ رہا تھا اور ہم خود کو مہاجر نہیں کہہ رہے تھے۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان میں 35 سال سے کم عمر افراد کی آبادی 18 کروڑ ہے اور 30 سال سے کم عمر کے لوگ 15 کروڑ ہیں، سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی نوجوان آبادی کو تعلیم اور روزگار کون دے گا؟ ہمارے پاس سوائے ہیومن کیپیٹل کے کوئی بڑی ایکسپورٹ کا ذریعہ نہیں ہے۔

وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ آئین کی 50ویں سالگرہ پر مجھے بلایا گیا، مجھے یہ بتا دیں آئیں سے پہلے والا پاکستان اچھا تھا یا بعد کا؟ جب آئین پاس ہو رہا تھا تو قومی اسمبلی کے 55 فیصد لوگ موجود ہی نہیں تھے، 1970 کے الیکشن میں جو ہارا وہ پاکستان کا وزیراعظم بن گیا۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم ایسے صوبے میں رہتے ہیں جہاں ان کا مطالبہ ہے کہ ہم نہ پڑھیں، ہم کراچی میں تین یونیورسٹیاں لے کر آئے ہیں، ہمارے پاس کراچی کا 85 فیصد مینڈیٹ ہے لیکن ہمارے پاس کراچی کی زمین نہیں ہے، 2018 میں جب انقلاب آیا تو صدر اور وزیراعظم یہیں سے منتخب ہوئے تھے، کراچی والوں نے یونیورسٹیوں کا مطالبہ کیوں نہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ 22 اگست کے بعد والی مردم شماری ایم کیو ایم نے کروائی تھی، کراچی کا مسئلہ ایک ماہ میں حل کر سکتے ہیں، کراچی میں گندم ساڑھے 3 کروڑ لوگوں کیلئے آتی ہے اور آبادی ڈیڑھ کروڑ بتائی جاتی ہے، 20 سالوں میں سب سے زیادہ اربنائزیشن کراچی میں ہوئی ہے، کابل سے زیادہ افغانی کراچی میں رہتے ہیں، مردم شماری میں گمشدہ ہوئے آدھے افراد کو بازیاب کروا لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ تو پاکستان کے سو بڑے مسائل میں ہے ہی نہیں تو اس پر بات کیوں کریں؟ کسی قوم کو کرکٹ اتنی مہنگی نہیں پڑی جتنا ہمیں ورلڈ کپ پڑا،  خود اندازہ لگا لیں کہ ہمیں ورلڈ کپ کتنا مہنگا پڑا۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ جنگ اور محبت میں ہی نہیں، سیاست میں بھی ہر چیز جائز ہے، کراچی میں 100 غیر رسمی اسکول شروع کروا دیے ہیں، بزنس کمیونٹی سے گزارش ہے کہ  وہ ان کو چلانے کی ذمہ داری لیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 30 سے 35 سالوں میں دنیا میں اتنی شدید تبدیلی رونما ہوگی کہ 1 ارب لوگ غیر متعلقہ ہو جائیں گے، ایم کیو ایم ملک دشمن اس لیے قرار پاتی ہے کہ وہ صوبوں کا مطالبہ کرتی ہے، پاکستان دھرتی ماں ہے کوئی صوبہ دھرتی ماں نہیں ہے، کیا اس میں کوئی متنازع بات ہے، یہ تو آئین میں موجود ہے، جب ضلع اور ڈویژن بڑھتے چلے گئے تو صوبے کیوں نہ بڑھے؟

انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد صوبے خود کو ملک تصور کرنے لگے، مردم شماری ہر 5 سال بعد کروانے کا مطالبہ ہم سب کو مل کر کرنا چاہیے، صوبے کے مطالبے کو غداری قرار دینا خود سب سے بڑی غداری ہے۔

ان کا کہنا تھا آج کراچی کے جو حالات ہیں، اس میں قومی اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے، اتنے بڑے اتفاقِ رائے کے دوران کراچی والوں کو بھی اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایم کیو ایم کے بنائے گئے اسکول 17 سال سے ویران پڑے ہیں
ہم نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ایسی جمہوریت کی ہمیں ضرورت نہیں جس کے ثمرات عام پاکستانی کو نہ پہنچیں، پاکستان کی سیاست کے جمعہ بازار کے ساتھ ہم آہنگ ہونا آسان ہے، تاہم ہم نے مشکل راستہ چنا، ایم کیو ایم واحد ایسی جماعت ہے جو خاندانی نہیں ہے، میرے ہونے نہ ہونے سے ایم کیو ایم کو کوئی فرق نہیں پڑتا، ایک اور بھی ایسی جماعت ہے جس کا اگر لیڈر نہ ہو تو وہ کچھ بھی نہیں ہوگی۔

وزیر تعلیم نے کہا کہ کراچی کی مردم شماری، حلقہ بندی اور ووٹر لسٹ کو درست کروانے کا مطالبہ کیا جائے، کراچی کے  پانی اور نکاسی کے منصوبے فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال کے دیے گئے ہیں، پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں کراچی کا سب سے سنہرا دور 1990ء سے 1992ء تک کا تھا، بہت سے لوگوں کو کراچی کا امن نہیں بدامنی بہتر لگتی ہے، آگمینٹیشن اگر نہ آئی تو ٹینکر مافیا ارب پتی سے کھرب پتی بن جائے گا۔

خالد مقبول  کا کہنا تھا کہ کراچی کی تقسیم جائز ہے تو سندھ کی تقسیم غلط کیسے ہے؟ پنجاب اور کے پی کے میں صوبے بن سکتے ہیں تو سندھ میں صوبہ کیوں نہیں بن سکتا، مرتضی وہاب کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں،  مرتضیٰ وہاب پر ان کی اپنی پارٹی بھی اعتماد نہیں کرتی۔

ان کا کہنا تھا کہ بجلی کے مسئلے پر ایم کیو ایم نے 11 پریس کانفرنس کی ہیں، 1972 میں 67 لاکھ کی آبادی  مردم شماری میں 36 لاکھ کردی گئی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کا مطالبہ کراچی میں کی تقسیم کراچی کا کراچی کی نہیں ہے کیوں نہ جائز ہے تو سندھ ہی نہیں سال سے

پڑھیں:

عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر

وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی عوامی مقبولیت ختم ہو چکی ہے، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ انہیں رہا کر دیا جائے تاکہ یہ حقیقت سب کے سامنے آ جائے۔

وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ عمران خان کل نہیں بلکہ آج ہی رہا ہو جائیں تاکہ ان کی مقبولیت اور سیاسی حیثیت کے بارے میں تمام قیاس آرائیاں ختم ہو جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: مجھے پہلی دفعہ 10 روپے عیدی ملی تھی، صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو جیل میں رکھ کر غیر ضروری طور پر ایک تاثر پیدا کیا جا رہا ہے اس لیے انہیں باہر آنا چاہیے تاکہ سب کو حقیقت کا اندازہ ہو جائے اور یہ بحث بھی ختم ہو جائے۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ عمران خان جب چاہیں رہا ہو سکتے ہیں وہ حقائق کے برعکس بات کرتے ہیں۔ ان کے بقول یہ تاثر درست نہیں کہ عمران خان خود رہائی نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی جیل کاٹ چکے ہیں اور ان کے تجربے کے مطابق جب کسی قیدی کو قانونی طور پر رہائی کا موقع ملتا ہے تو وہ فوری طور پر اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔

صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ عمران خان کو اس وقت رہائی کا کوئی موقع میسر نہیں آ رہا۔ عمران خان جیل میں نسبتاً بہتر سہولیات کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں جہاں ان کے لیے متعدد بیرکس مختص ہیں جن میں ورزش اور چہل قدمی کی سہولت بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن بھارت کو جنگ کے میدان میں شکست دی ہے، لیکن اب ہمیں معاشی جنگ جیتنے کے لیے سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔

عمران نذیر نے کہاکہ چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا نام پاکستان ہے، صحت اور تعلیم کے شعبے پہلے بھی وفاق کے پاس تھے لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ صوبوں میں یہ محکمے موجود نہیں تھے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پنجاب سے ہمیشہ قربانی مانگی جاتی ہے، ہمارا این ایف سی شیئر 58 فیصد بنتا ہے، لیکن ہمیں 51 فیصد ملا۔

انہوں نے کہاکہ دیگر صوبے آبادی کم کرنے کے بجائے بڑھا رہے ہیں تاکہ این ایف سی شیئر بڑھ جائے، لیکن اگر آبادی رکے گی نہیں تو اس کا نقصان پاکستان کو ہونا ہے۔

وزیر صحت پنجاب نے کہاکہ بحیثیت سیاسی کارکن مجھے عمران خان سمیت ہر سیاسی کارکن کی قید کا دکھ ہے، لیکن سیاسی کارکنوں کو بھی ریڈلائن کراس نہیں کرنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہاکہ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان صرف سیاسی قیدی ہیں، 190 ملین پاؤنڈ کیس اور فارن فنڈنگ کیس ایک حقیقت ہے۔

انہوں نے کہاکہ عمران خان کو جیل میں سہولیات میسر ہیں، لیکن کبھی نواز شریف، شہباز شریف یا کسی اور نے یہ نہیں کہاکہ عمران خان میں تمہارا اے سی اتاروں گا۔ لیڈر آتے جاتے رہتے ہیں، پاکستان تھا، ہے اور رہے گا۔

مزید پڑھیے: عیدالاضحیٰ پر کامیاب صفائی آپریشن: پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے لیے خراجِ تحسین کی قرارداد

خواجہ عمران نذیر نے ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ سنہ 2006 میں ان کی ملاقات امریکا کی سابق وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس سے ہوئی تھی اور اس وقت امریکا پاکستان کے شمالی علاقوں میں غریب افراد کی فلاح و بہبود کے لیے ایک پروگرام شروع کر رہا تھا۔

وزیر صحت نے بتایا کہ انہوں نے ملاقات کے دوران کونڈولیزا رائس سے کہا کہ پاکستان میں منصوبے شروع کرنے کے بجائے امریکا کو پہلے اپنے ملک میں غربت اور بے گھری کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے، کیونکہ وہاں بھی بڑی تعداد میں ضرورت مند افراد موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے اس تبصرے پر کونڈولیزا رائس نے ناراضی کا اظہار کیا اور ان کی شکایت امریکی محکمہ خارجہ (اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ) سے کر دی جس کے بعد انہیں تقریباً 2،3 سال مختلف سرکاری تقریبات اور پروگراموں میں مدعو نہیں کیا گیا۔

خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ بعض اوقات سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر حقائق کے برعکس خبریں پھیلائی جاتی ہیں۔ میاں چنوں کے تحصیل ہیڈکوارٹر (ٹی ایچ کیو) اسپتال میں ایک ڈاکٹر سے متعلق سامنے آنے والے واقعے کی مکمل تحقیقات کی گئیں تاہم الزامات درست ثابت نہیں ہوئے۔

ان کے مطابق متعلقہ ڈاکٹر نے مریض کے ساتھ کوئی نازیبا حرکت نہیں کی تھی اور طبی معائنے کے دوران تمام مقررہ طبی ضابطوں اور پروٹوکولز پر عمل کیا گیا تھا۔    مریض کی بیماری اور علامات کے مطابق ہی اس کا معائنہ اور علاج کیا جاتا ہے اس لیے ایسے معاملات کو بلاجواز غلط رنگ دینا مناسب نہیں۔

مزید پڑھیں: ستھرا پنجاب اور سیف سٹی کا کامیاب آپریشن، ایک لاکھ 20 ہزار ٹن سے زائد ویسٹ کلیکشن

خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ محکمہ صحت میں صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق ان سے بھی بہتر کام کر رہے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی توجہ کے باعث صحت کے شعبے میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مریم نواز کے منصب سنبھالنے سے قبل تقریباً 16 ہزار بچوں کی دل کی سرجریاں التوا کا شکار تھیں تاہم گزشتہ ڈھائی برس کے دوران یہ تعداد کم ہو کر صرف 2 سے 3 ہزار رہ گئی ہے۔

ان کے مطابق اس عرصے میں تقریباً 14 ہزار بچوں کی کامیاب دل کی سرجریاں کی جا چکی ہیں جس کا کریڈٹ وزیراعلیٰ مریم نواز کو جاتا ہے۔ اب پنجاب کے مختلف اضلاع کے سرکاری اسپتالوں میں دل کے امراض کے علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ اسٹنٹ ڈالنے کی سہولت بھی ہر ضلع تک توسیع دی جا رہی ہے۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ صوبے بھر کے اسپتالوں میں جدید طبی سہولیات، بشمول ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین مشینیں، فراہم کی جا چکی ہیں جس سے عوام کو بہتر طبی خدمات میسر آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں واضح بہتری آئی ہے تاہم تنقید کرنا بعض لوگوں کا کام ہے اور وہ اپنی رائے دیتے رہیں گے۔

خواجہ عمران نذیر نے دعویٰ کیا کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ تحریک انصاف نے سنہ 2014 میں صحت کارڈ پروگرام شروع کیا تھا تو وہ سیاست چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: مریم نواز کا کامیاب آپریشن، عید کے روز بھی سرکاری امور کی نگرانی جاری

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما اور وزیر اطلاعات شفیع جان کا یہ دعویٰ درست نہیں کہ صحت کارڈ کا آغاز سنہ 2014 میں تحریک انصاف نے کیا تھا۔ ان کے بقول صحت کارڈ پروگرام کی بنیاد سابق وزیراعظم نواز شریف نے رکھی تھی اور اسی دور میں اس منصوبے کو عملی شکل دی گئی۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ صحت کارڈ کے حوالے سے حقائق کو مسخ کیا جا رہا ہے جبکہ اس منصوبے کا اصل کریڈٹ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو جاتا ہے۔

خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ کلینک آن ویلز منصوبے کے ذریعے اب تک تقریباً ڈھائی کروڑ مریضوں کو ان کی دہلیز پر طبی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں۔ ان کے بقول حکومت صحت کے شعبے میں مسلسل کام کر رہی ہے، تاہم اس کے باوجود بعض حلقے بلاجواز تنقید اور الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر عوامی خدمت کے باوجود کبھی کرپشن کے الزامات لگائے جاتے ہیں اور کبھی منصوبوں پر بے بنیاد اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں جس سے انہیں اور ان کی ٹیم کو دکھ پہنچتا ہے۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ اگر کسی کے پاس ان کے خلاف کرپشن کے ٹھوس شواہد موجود ہیں تو وہ متعلقہ عدالتوں یا اداروں سے رجوع کرے تاہم بغیر ثبوت الزامات اور بہتان تراشی سے گریز کیا جانا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے عملی سیاست میں فعال کردار ادا کرنے سے قبل چند قریبی ساتھیوں سے مشاورت کی تھی جن میں سینیٹر پرویز رشید اور وہ خود بھی شامل تھے۔ ان کے بقول اس وقت وہ مسلم لیگ (ن) لاہور کے سیکریٹری جنرل کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال رہے تھے اور انہوں نے مریم نواز کو سیاسی طور پر زیادہ متحرک کردار ادا کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ انہیں وزیراعلیٰ پنجاب سے کھل کر بات کرنے کی آزادی حاصل ہے اور شاید کابینہ میں کسی اور وزیر کو اتنی گنجائش میسر نہیں جتنی انہیں حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بعض اوقات سخت اور دوٹوک انداز میں بھی اپنی رائے پیش کرتے ہیں تاہم مریم نواز ان کی بات تحمل سے سنتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ وزیراعلیٰ کے پاس کسی بھی وزیر کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا اختیار موجود ہے لیکن مریم نواز تنقید اور مختلف آرا سننے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ ان کے بقول مریم نواز انتظامی معاملات میں سخت مزاج بھی ہیں تاہم اچھا کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں اور شفقت سے پیش آتی ہیں۔

مزید پڑھیں: مریم نواز کو ہتک عزت بل سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر

خواجہ عمران نذیر نے مزید کہا کہ مریم نواز خود کو ’عقلِ کل‘ نہیں سمجھتیں بلکہ مشاورت اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر اپنی دانست میں بہترین فیصلے کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

صحت کارڈ صحت کارڈ منصوبہ عمران خان عمران خان کی مقبولیت نواز شریف وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

متعلقہ مضامین

  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟