5 مرتبہ ایم این اے بنا ہوں، اپنی جیب سے ایک روپیہ خرچ نہیں کیا: خالد مقبول
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
’جیو نیوز‘ گریب
وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ میں 5 مرتبہ ایم این اے بنا ہوں، اپنی جیب سے ایک روپیہ خرچ نہیں کیا۔
کراچی چیمبر آف کامرس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جن کو ووٹ دیا وہ کیوں فنڈز نہیں لاتے، بڑے بڑے بزنس قومیائے گئے، بعد میں کسی اور کو فروخت کیے گئے۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ جتنی جمہوریت آزاد ہے اتنا ہی سچ بولوں گا، خوشی ہے کہ جو باتیں ہم کرتے تھے وہ اب سب کر رہے ہیں، جماعت اسلامی کا شکریہ ہمارے نعروں کو اپنے بینرز پر جگہ دی۔
انہوں نے کہا کہ کہتے ہیں ایم کیو ایم نے شہر کو یوم سوگ دیا، مولانا مودودی اور شاہ احمد نورانی کراچی کی نمائندگی کرتے تھے، کراچی نے کبھی کسی کی بدمعاشی قبول نہیں کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم نے غریب سے غریب آدمی کو رکن اسمبلی منتخب کیا۔ آپ کے کاروبار لے کر پرائیویٹائز کردیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم سے پہلے کراچی میں ہر طرح کی جماعتیں تھیں، ہم سے پہلے بکری اور شیر ایک گھات سے پانی پیتے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ لسانی تنظیمیں ایک سے بڑھ کر ایک تھیں، ایم کیو ایم تو آخری تھی، 2008 میں کراچی دنیا کا ایمرجنگ شہر تھا، عالمی ادارے آج کراچی کو رہنے کے قابل بنا رہے ہیں، جاگیردارنہ نظام کو ایم کیو ایم ہضم نہیں ہوتی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم نے کہا کہ
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔