خیبرپختونخوا : آبی پرندوں کےشکار پر مکمل پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
محکمہ جنگلی حیات خیبر پختونخوا نے بطخوں اور دیگر آبی پرندوں کے شکار پر پابندی عائد کردی ہے۔
خیبرپختونخوا میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لئےصوبے کے 57 ڈیمز، جھیلوں اوردریاؤں میں شکار پرپابندی لگا دی گئی ہے،محکمہ جنگلی حیات خیبرپختونخوانےشکارسیزن کےنئےقواعدو ضوابط جاری کر دیئے۔جاری اعلامیے کےمطابق صوبےکے57 ڈیمز،جھیلوں اوردریاؤں کےاردگرد شکارممنوع قرار دیاگیا ہے،دسمبر 2025 تک شکارکرنےوالوں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی،شکارکی اجازت صرف مخصوص مقامات پرہوگی،سورج نکلنے سے قبل اور غروب آفتاب کے بعد شکار پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔
اعلامیے کےمطابق شکاری الیکٹرانک آلات اور کال برڈز کے استعمال بھی نہیں کرسکیں گے، فی شکاری دن میں صرف 5 آبی پرندوں کےشکارکرسکےگا،بطخ کےشکاری کتےکی لائسنس فیس 1500 روپےسالانہ،خصوصی ڈک ہنٹنگ بندوق کی فیس 500 روپے یومیہ ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔