صیہونی اپنے قیدیوں کو بھول جائیں، القسام کا پیغام
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے ابتدا میں نیتن یاہو کے غزہ پر حملے کے منصوبے کی مخالفت کی، تاہم بعد میں کابینہ کے دباؤ پر حملے پر رضامندی ظاہر کی۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے غزہ میں اسرائیلی قیدیوں کی تصاویر جاری کرتے ہوئے صہیونی دشمن پر واضح کیا ہے کہ غزہ پر حملہ کرکے انہیں اپنے قیدیوں کو زیادہ جلدی الوداع کہنا چاہیے۔ القسام نے ان قیدیوں کی الوداعی تصاویر شائع کرنے کے بعد اس بات پر زور دیا کہ جنگ بندی کو قبول کرنے میں نیتن یاہو کی ہچکچاہٹ اور ہٹ دھرمی اور غزہ پر حملہ کرنے اور زامیر (اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف) کا نتن یاہو کے حکم کے سامنے سر جھکانے کا فیصلہ ان (قیدیوں) کو موت سے دوچار کرے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے ابتدا میں نیتن یاہو کے غزہ پر حملے کے منصوبے کی مخالفت کی، تاہم بعد میں کابینہ کے دباؤ پر حملے پر رضامندی ظاہر کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پر حملے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔