غزہ تباہی کی بدترین سطح پر، دنیا کو اسرائیل سے ڈرنا نہیں چاہیے: اقوام متحدہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
نیویارک (ویب ڈیسک) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ دنیا کو اسرائیل اور اس کے مقبوضہ مغربی کنارے کے مرحلہ وار الحاق سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں فرانسیسی خبر ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم غزہ میں جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ خوفناک ہے، یہ موت اور تباہی کی بدترین سطح ہے جو میں نے بطور سیکرٹری جنرل اپنے وقت میں دیکھی یا شاید اپنی زندگی میں۔
انتونیو گوتریس نے کہا کہ قحط، صحت کی موثر دیکھ بھال کا مکمل فقدان، مناسب پناہ گاہوں کے بغیر زندگی گزارنا، فلسطینی عوام کے مصائب کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔
واضح رہے کہ نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ سربراہی اجلاس کے لیے 140 سے زائد عالمی رہنما جمع ہو رہے ہیں، رواں برس اس عالمی اجلاس میں فلسطینیوں اور غزہ کے مستقبل کے موضوعات غالب رہیں گے۔
اسرائیل نے مغربی ممالک کی جانب سے اس اجلاس میں فلسطین کو تسلیم کرنے کے منصوبے کی حمایت کرنے کی صورت میں مغربی کنارے کو الحاق کرنے کی دھمکی دی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ ہمیں جوابی کارروائی کے خطرے سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے، ہم جو کر رہے ہیں وہ ہم کریں یا نہ کریں، پھر بھی اسرائیلی کارروائیاں جاری رہیں گی لیکن کم از کم عالمی برادری کو متحرک کرنے کا ایک موقع ہے تاکہ ایسا نہ ہونے کے لیے دباؤ ڈالیں۔
رہائشی نکل جائیں
دوسری طرف اسرائیلی فوج نے خبردار کیا ہے کہ غزہ شہر میں غیرمعمولی طاقت کا استعمال کیا جائے گا لہٰذا رہائشیوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ جنوب کی طرف نکل جائیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں غزہ شہر کے رہائشیوں کو مخاطب کرتے ہوئے اسرائیلی فوج نے عربی زبان میں بیان جاری کیا کہ اب صلاح الدین روڈ کو جنوب کی طرف جانے والے سفر کے لیے بند کر دیا گیا ہے، اسرائیل کی دفاعی افواج حماس اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بے مثال طاقت کے ساتھ آپریشن جاری رکھیں گی۔
غزہ شہر پر قبضہ کرنے کی اسرائیل کی کوشش نے بین الاقوامی غم و غصے کو جنم دیا ہے، غزہ کا یہ علاقہ پہلے ہی تقریباً دو برس سے جاری جنگ سے تباہ ہو چکا ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق شہر میں خوراک کی انتہائی قلت ہے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کے نے کہا
پڑھیں:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔
ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ
جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ