بار کونسل کے انتخابات صاف، شفاف ہوں گے، امجد پرویز
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور چیئرمین پنجاب بار کونسل امجد پرویز نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پنجاب بار کونسل کے آئندہ انتخابات ہر صورت شفاف، منصفانہ اور قواعد و ضوابط کے مطابق ہوں گے۔
نجی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کا شیڈول جاری ہو چکا ہے، اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل کروایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ انتخابی مہم کے دوران پینا فلیکس، بینرز لگانے یا فائرنگ جیسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات پر مکمل پابندی ہوگی، اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے گیحتٰی کہ امیدوار کی نااہلی تک نوبت آ سکتی ہے۔
امجد پرویز نے بتایا کہ اس بار ایک اہم قدم یہ اٹھایا گیا ہے کہ ووٹرز کے لیے کھانے کا اہتمام کرنے پر مکمل پابندی ہوگی۔ ان کے مطابق، یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے تاکہ انتخابی عمل کو اثر و رسوخ سے پاک اور مکمل طور پر منصفانہ بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امیدواروں کو گھر گھر جا کر ووٹ مانگنے کی اجازت نہیں ہوگی، البتہ وہ اپنی بار ایسوسی ایشنز کی حدود میں انتخابی مہم چلا سکتے ہیں۔
چیئرمین بار کونسل نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی اور قانون سب کے لیے برابر ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بار کونسل
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔