محسن نقوی کا اب وزیراعظم بننا نا ممکن ہو چکا، رانا ثناء اللّٰہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کا اب وزیراعظم بننا نا ممکن ہو چکا۔ اب پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللّٰہ نے اپنے وزیر داخلہ بننے کی خبروں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔
رانا ثناء اللّٰہ کا تفصیلی انٹرویو آج رات 10 بجے جیو نیوز پر پروگرام جرگہ میں نشر ہوگا۔
دوسری جانب فیصل آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثناء اللّٰہ نے سعودی عرب سے معاہدے پر کہا کہ ایک سیاسی اور دوسری عسکری قوت ہے، جب یہ دونوں قوتیں سامنے آتی ہیں تو اس کو پھر ورلڈ سُپر پاور ہی کہا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب جو پاکستان کے خلاف جارحیت کے عزائم رکھتے ہیں ان کو بھی سوچنا ہوگا کہ کیا ان کو ٹیبل پر بیٹھ کر معاملات حل کرنے ہیں یا مزید ذلت کا سامنا کرنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: رانا ثناء الل
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔