علی پور میں ،راشن لے جاتے ہوئے 4 افراد سیلابی پانی میں ڈوب کر جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
ویب ڈیسک: علی پور میں راشن لے جاتے ہوئے افسوسناک حادثہ پیش آگیا، 4 افراد سیلابی پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔
ریسکیو عملہ کے مطابق 4 افراد راشن لے کر واپس گھر جاتے ہوئے سیلابی پانی میں ڈوب کر دم توڑ گئے، بستی کارچ اور دیگر علاقوں میں پیش آئے الگ الگ حادثات میں چار اموات ہوئیں۔
تین ماموں بھانجا ایک دوسرے کو بچاتے ہوئے ڈوبے، جن کی شناخت نادر، رستم، حافظ بابر کے نام سے ہوئی، 15 سالہ کاشف گبول کھانا لے جاتے ہوئے سیلابی پانی میں بہہ کر جاں بحق ہوا۔
پاکستان نے کامن ویلتھ بیچ ہینڈ بال چیمپئن شپ میں سری لنکا کو شکست دیدی
ریسکیو ٹیموں نے آپریشن کے بعد تمام لاشیں برآمد کر لیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سیلابی پانی میں جاتے ہوئے
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔