Express News:
2026-07-24@06:23:33 GMT

اللہ کے نام پر…

اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT

’’ یہ کیا اٹھا لائے ہو پتر؟‘‘ ملازم لڑکا سبزی لے کر آیا تھا اور آلوؤ ں میں سوراخ تھے، باقی سبزیاں بھی گلی سڑی تھیں۔ دکان کا نام پوچھا ، گاڑی نکالی تاکہ خود جا کر تبدیل کرا کر لاتی ہوں۔’’ یہ کیسی سبزیاں دی ہیں بیٹا، کوئی مفت میںبھی دے تو کبھی نہ لوں، پھر چن کردوبارہ سبزیاں لیں، آخر پیسے دینا تھے۔ 

چند دن پہلے بھی ایسے ہی ہوا تھا جب میں ایک نرسری سے گملے لے رہی تھی اور دکاندار نے چھ گملے گن کر ایک طرف رکھوائے، جب ادائیگی کر کے گاڑی میں گملے رکھوانے لگی تونظر پڑی کہ دو گملوںکے کنارے ہلکے سے ٹوٹے ہوئے تھے۔ میںنے اسے کہا کہ ان دو گملوں کو ایک طرف رکھے اور ان کی جگہ دو اچھے گملے لا کر رکھے۔ ا س نے بہت بحث کی لیکن میں مصر رہی کہ دو اور اچھے گملے لا کر دے۔ اس نے بتایا کہ اس کے پاس اس سائز اور ڈیزائن کے بس وہی چھ گملے تھے۔ سو میںنے اس سے دو گملوں کی رقم واپس لی۔

ہمارے ملک کی ایک نامور گلوکارہ اور اداکارہ جو سیلاب زدگان کی بحالی اور مدد کے لیے کام کررہی ہیں ۔ ان کی ایک وڈیو تھی، جس میں وہ بتا رہی تھی کہ لوگ کس قدر ناقص اشیاء بھی بھیج دیتے ہیں، سامان کی حالت واقعی خراب تھی ۔ذرا سوچیں، پھٹے پرانے کپڑے اور بستر… اتنے خستہ حال کہ آپ اپنے گھر کے ملازم کو بھی دیں تو وہ نہیں لے گا۔ خود اپنے لیے تو ہمارے ایسے حالات ہیں کہ ہم ذرا سا خراب گملا نہیں خریدسکتے مگر جب معاملہ آتا ہے کسی کی مدد کا ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔جو لوگ خود پانچ چھ لاکھ روپے سے کم قیمت کا جوتا نہیں پہنتے، وہ جب اپنے ہاتھوں سے کسی سیلاب کی متاثرہ عورت کے پیروں میں ناقص ترین ربڑ کی دو سو روپے کی جوتی رکھ کر اپنی ٹک ٹاک بنواتی ہیں تو ان کا اسٹینڈرڈ دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ 

امداد ایسی کریں جو کہ کسی کے کام آئے، ا س عمر کے بچو ں کے لیے سیریل بھیجیں، پانی کی بوتلیں، بچوںکے لیے خشک دودھ اور بڑوں کے لیے بھی، اچھی قسم کے کپڑے، ا گر آپ کو نئے کپڑے بھیجنے کی استطاعت نہیں ہے تو اپنے کم استعمال شدہ کپڑے بھجوائیں جو کہ خوامخواہ میں سالوں سے الماریوں میں لٹکے ہوئے ہیں، آپ کو پسند ہیں اس لیے۔ وہ کپڑے بھیجیں، کیونکہ وہ آپ کو پسند ہیں ۔ گھر میں ہر برتن ہر وقت تونہیں زیر استعمال رہتا ہے، بہت سے برتن ایسے بھی ہوتے ہیں جو سال بھر میں بھی ایک دفعہ استعمال نہیں ہوتے۔ سب سے بہتر مدد ہے کہ کھانے پینے کا خشک راشن، بستر، برتن، پھل اور اچھے کپڑے، خواتین کے استعمال کی ضروری اشیاء بھی ہوں کیونکہ وہ تو بالکل خالی ہاتھ اپنے گھروں سے نکلے ہیں، ان کے لیے جان بچانا اہم تھا سامان نہیں، اگر آپ کے پاس فالتو سامان نہیں ہے تو اپنی سکت کے مطابق رقم بھجوا دیں، اپنے دوست احباب سے بھی مددمانگیں اور جب کچھ بہتر رقم جمع ہو جائے تو اسے کسی مستند حوالے سے سیلاب زدگا ن کی مدد کے لیے بھجوا دیں۔

اگر آپ کو نزدیک پڑتا ہے تو خود جا کر انھیں دے آئیں، انھیں اپنا کچھ وقت بھی دیں، وہ بھی صدقہ میں شمار ہو گا اور اس کے عوض بھی نیکیاں ملیں گی- ان کی مصیبت دیکھ کر آپ کے اندر اللہ تعالی کا شکرادا کرنے کا جذ بہ پیدا ہو گا کہ اس نے آپ کو کس مصیبت اور آفت سے بچا رکھا ہے۔ تھوڑا سامان بھیج دیں بے شک، اپنی ضرورت سے زائد بستر ان کی مدد کے لیے بھچوا دیں جو کہ فالتو ہیں مگر اس لیے سال ہا سال پڑے رہتے ہیں کہ کسی کے آنے پر استعمال ہو جائیں گے۔ اب کون کسی کے گھر آتا یا اتنا رہتا ہے کہ وہ بستر استعمال ہوں گے۔ ایک بار اللہ کے نام پر اچھی چیزیں نکال دیں ، اللہ تعالی اپنے لیے دی گئی چیزوں اور مال پر کوئی ادھار نہیں رکھتے ، جلد ہی آپ کو آپ کے دیے گئے میں سے کئی گنا زیادہ ہو کر مل جائے گا۔ آزما کردیکھ لیں!!
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک