Express News:
2026-06-03@04:47:23 GMT

اللہ کے نام پر…

اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT

’’ یہ کیا اٹھا لائے ہو پتر؟‘‘ ملازم لڑکا سبزی لے کر آیا تھا اور آلوؤ ں میں سوراخ تھے، باقی سبزیاں بھی گلی سڑی تھیں۔ دکان کا نام پوچھا ، گاڑی نکالی تاکہ خود جا کر تبدیل کرا کر لاتی ہوں۔’’ یہ کیسی سبزیاں دی ہیں بیٹا، کوئی مفت میںبھی دے تو کبھی نہ لوں، پھر چن کردوبارہ سبزیاں لیں، آخر پیسے دینا تھے۔ 

چند دن پہلے بھی ایسے ہی ہوا تھا جب میں ایک نرسری سے گملے لے رہی تھی اور دکاندار نے چھ گملے گن کر ایک طرف رکھوائے، جب ادائیگی کر کے گاڑی میں گملے رکھوانے لگی تونظر پڑی کہ دو گملوںکے کنارے ہلکے سے ٹوٹے ہوئے تھے۔ میںنے اسے کہا کہ ان دو گملوں کو ایک طرف رکھے اور ان کی جگہ دو اچھے گملے لا کر رکھے۔ ا س نے بہت بحث کی لیکن میں مصر رہی کہ دو اور اچھے گملے لا کر دے۔ اس نے بتایا کہ اس کے پاس اس سائز اور ڈیزائن کے بس وہی چھ گملے تھے۔ سو میںنے اس سے دو گملوں کی رقم واپس لی۔

ہمارے ملک کی ایک نامور گلوکارہ اور اداکارہ جو سیلاب زدگان کی بحالی اور مدد کے لیے کام کررہی ہیں ۔ ان کی ایک وڈیو تھی، جس میں وہ بتا رہی تھی کہ لوگ کس قدر ناقص اشیاء بھی بھیج دیتے ہیں، سامان کی حالت واقعی خراب تھی ۔ذرا سوچیں، پھٹے پرانے کپڑے اور بستر… اتنے خستہ حال کہ آپ اپنے گھر کے ملازم کو بھی دیں تو وہ نہیں لے گا۔ خود اپنے لیے تو ہمارے ایسے حالات ہیں کہ ہم ذرا سا خراب گملا نہیں خریدسکتے مگر جب معاملہ آتا ہے کسی کی مدد کا ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔جو لوگ خود پانچ چھ لاکھ روپے سے کم قیمت کا جوتا نہیں پہنتے، وہ جب اپنے ہاتھوں سے کسی سیلاب کی متاثرہ عورت کے پیروں میں ناقص ترین ربڑ کی دو سو روپے کی جوتی رکھ کر اپنی ٹک ٹاک بنواتی ہیں تو ان کا اسٹینڈرڈ دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ 

امداد ایسی کریں جو کہ کسی کے کام آئے، ا س عمر کے بچو ں کے لیے سیریل بھیجیں، پانی کی بوتلیں، بچوںکے لیے خشک دودھ اور بڑوں کے لیے بھی، اچھی قسم کے کپڑے، ا گر آپ کو نئے کپڑے بھیجنے کی استطاعت نہیں ہے تو اپنے کم استعمال شدہ کپڑے بھجوائیں جو کہ خوامخواہ میں سالوں سے الماریوں میں لٹکے ہوئے ہیں، آپ کو پسند ہیں اس لیے۔ وہ کپڑے بھیجیں، کیونکہ وہ آپ کو پسند ہیں ۔ گھر میں ہر برتن ہر وقت تونہیں زیر استعمال رہتا ہے، بہت سے برتن ایسے بھی ہوتے ہیں جو سال بھر میں بھی ایک دفعہ استعمال نہیں ہوتے۔ سب سے بہتر مدد ہے کہ کھانے پینے کا خشک راشن، بستر، برتن، پھل اور اچھے کپڑے، خواتین کے استعمال کی ضروری اشیاء بھی ہوں کیونکہ وہ تو بالکل خالی ہاتھ اپنے گھروں سے نکلے ہیں، ان کے لیے جان بچانا اہم تھا سامان نہیں، اگر آپ کے پاس فالتو سامان نہیں ہے تو اپنی سکت کے مطابق رقم بھجوا دیں، اپنے دوست احباب سے بھی مددمانگیں اور جب کچھ بہتر رقم جمع ہو جائے تو اسے کسی مستند حوالے سے سیلاب زدگا ن کی مدد کے لیے بھجوا دیں۔

اگر آپ کو نزدیک پڑتا ہے تو خود جا کر انھیں دے آئیں، انھیں اپنا کچھ وقت بھی دیں، وہ بھی صدقہ میں شمار ہو گا اور اس کے عوض بھی نیکیاں ملیں گی- ان کی مصیبت دیکھ کر آپ کے اندر اللہ تعالی کا شکرادا کرنے کا جذ بہ پیدا ہو گا کہ اس نے آپ کو کس مصیبت اور آفت سے بچا رکھا ہے۔ تھوڑا سامان بھیج دیں بے شک، اپنی ضرورت سے زائد بستر ان کی مدد کے لیے بھچوا دیں جو کہ فالتو ہیں مگر اس لیے سال ہا سال پڑے رہتے ہیں کہ کسی کے آنے پر استعمال ہو جائیں گے۔ اب کون کسی کے گھر آتا یا اتنا رہتا ہے کہ وہ بستر استعمال ہوں گے۔ ایک بار اللہ کے نام پر اچھی چیزیں نکال دیں ، اللہ تعالی اپنے لیے دی گئی چیزوں اور مال پر کوئی ادھار نہیں رکھتے ، جلد ہی آپ کو آپ کے دیے گئے میں سے کئی گنا زیادہ ہو کر مل جائے گا۔ آزما کردیکھ لیں!!
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق