ہمارا مقابلہ شیطان اور اس کے نظام سے ہے‘ پروفیسر ابراہیم
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بنوں (صباح نیوز)امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا جنوبی پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا ہے کہ شیطان انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے، ہمارا مقابلہ شیطان اور اس کے نظام سے ہے، نبی مہربانؐ اللہ کی شریعت لے کر آئے اور اس کے لیے جدوجہد کی، یہ شریعت قیامت تک کے لیے ہے، ہم بھی اسی شریعت کے نفاذ کے لیے کوشاں ہیں، جماعت اسلامی اسی مقصد کے لیے نومبر میں لاہور میں اجتماع ِ عام منعقد کر رہی ہے، جماعت اسلامی پاکستان کے اجتماع عام کا مقصد شیطانی و طاغوتی قوتوں کے مقابلے کے لیے تیاری کرنا ہے، جماعت اسلامی کا اجتماعِ عام تاریخی اور عظیم الشان ہوگا، ملک بھر سے لاکھوں افراد شرکت کریں گے۔ خیبر پختونخوا جنوبی سے بھی ہزاروں افراد پر مشتمل قافلے لاہور کی طرف عازمِ سفر ہوں گے،اجتماع سے دنیا کو بتائیں گے اسلام کا نظام صرف مسلمانوں کے لیے نہیں پوری انسانیت کے لیے نافع ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوہاٹ ڈویژن اور بنوں ڈویژن میں شامل اضلاع کے ذمے داران کے الگ الگ اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں صوبائی سیکرٹری جنرل محمد ظہور خٹک اور نائب امیر حاجی اختر علی شاہ بھی موجود تھے۔ اجلاس میں اضلاع کو اجتماعِ عام کی تیاریوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی اور اہداف تقسیم کیے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے لیے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔