data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

استنبول(مانیٹرنگ ڈیسک)ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ان کا ملک کبھی بھی بائبلی دور کا وہ قدیم پتھر اسرائیل کے حوالے نہیں کرے گا جو یروشلم کے نیچے ایک سرنگ سے عثمانی دور میں دریافت ہوا تھا۔یہ پتھر، جسے شیلواح یا سلوان کتبہ کہا جاتا ہے، عبرانی زبان میں تحریر شدہ ایک تختی ہے جو تقریباً 2700 سال پرانی ہے اور اس وقت
استنبول کے آثارِ قدیمہ کے میوزیم میں موجود ہے۔یہ مسئلہ اس وقت ایک نئی سفارتی کشیدگی کا باعث بنا جب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ 1998 میں اس کتبے کو واپس لانے کی ان کی کوشش اس بنیاد پر مسترد کر دی گئی تھی کہ اس وقت استنبول کے میئر کے طور پر اردوان کی قیادت میں اسلام پسند حلقے مشتعل ہوسکتے تھے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر اردوان نے نیتن یاہو پر الزام لگایا کہ وہ ترکی کے خلاف نفرت انگیز بیانات دے رہے ہیں صرف اس لیے کہ ان کے ملک نے سلوان کتبہ واپس کرنے سے انکار کیا ہے۔اردوان نے دو ٹوک مو¿قف اپناتے ہوئے کہا کہ یہ کتبہ ہمارے آبا و اجداد کی میراث ہے اور ہم اسے اسرائیل کے حوالے نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا ”یروشلم پوری انسانیت اور تمام مسلمانوں کی عزت و وقار کی علامت ہے، ہم نہ یہ کتبہ دیں گے اور نہ ہی یروشلم کی ایک کنکری بھی۔“

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان