صحافیوں کے تحفظ کیلئے رائج قوانین و کمیشن پر ورکشاپ کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میرپورخاص (نمائندہ جسارت) میرپورخاص پریس کلب میں صحافیوں کے تحفظ کے لئے متعلقہ قوانین اور کمیشن کے بارے میں ورکشاپ،کا انعقادکیا گیا جس میں صحافیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی تفصیلات کے مطابق میرپورخاص پریس کلب میں انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ ایڈووکیسی اینڈ ڈویلپمنٹ کی جانب سے صحافیوں کے تحفظ کے لئے متعلقہ قوانین اور سندھ اور وفاقی حکومت کی جانب سے بنائے گئے کمیشنوں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لئے میرپورخاص پریس کلب میں ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا ورکشاپ میں تنظیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر آفتاب عالم ایڈوکیٹ نے کہا کہ پاکستان میں 2014 تک صحافیوں کے حوالے سے 110 قوانین بنائے گئے لیکن ان کے ذریعے صحافیوں کو تحفظ نہیں دیا جا سکا انہوں نے کہا کہ اس وقت صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے ایک قانون وفاقی حکومت اور دوسرا سندھ حکومت نے نافذ کیا ہے جبکہ باقی تین صوبوں میں صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے کوئی قانون نہیں بنایا گیا انہوں نے کہا کہ سندھ میں نافذ صحافیوں کے تحفظ کا قانون براعظم ایشیا کا پہلا قانون ہے انہوں نے کہا کہ وفاقی سطح پر بنائے گئے ایک قانون کے تحت کمیشن بنایا گیا ہے جس کے چیئرمین کا تقرر کیا گیا ہے باقی ممبران کا تقرر نہیں کیا گیا ہے جبکہ سندھ حکومت کی جانب سے بنائے گئے کمیشن کا چیئرمین بھی مقرر کیا گیا ہے اس کے ممبران کی تقرری بھی کر دی گئی ہے اور اب انہیں آفس بھی دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ کمیشن صحافیوں کے تحفظ کے لئے بہت با اختیار ہے جو صحافیوں کو دھمکیاں دینے والے لوگوں اور سرکاری اداروں کو بھی طلب کر سکتا ہے آفتاب عالم نے کہا کہ اگر کوئی صحافی ہراساں کئے جانے کے بارے میں آن لائن شکایت درج کروانا چاہتا ہے تو کمیشن اس کے لئے ایک ویب سائٹ بنائے جو ابھی تک نہیں بنائی گئی اور ساتھ ہی کمیشن کو اس کے اختیارات سے آگاہ کرنے کے لئے تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا جائے اس موقع پر پریس کلب کے صدر نذیر احمد پنہور، سینئر صحافیوں سلیم آزاد، سید محمد خالد، شاہد خاصخیلی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے جرنلسٹ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت کمیشن کا قیام احسن اقدام ہے لیکن نچلی سطح پر صحافیوں کو کمیشن کی کوئی اطلاع نہیں ملی جس کی وجہ سے متاثرہ صحافیوں کو کمیشن تک پہنچنا مشکل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صحافیوں کے تحفظ کے انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو کی جانب سے پریس کلب کیا گیا گیا ہے کے لئے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔