دہلی انتخابات میں بڑے پیمانے پر "ووٹ چوری" کو لیکر الیکشن کمیشن نے حقائق دبائے، سوربھ بھاردواج
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
عام آدمی پارٹی کے سینیئر لیڈر نے کہا کہ اروند کیجریوال نے اس سلسلے میں انتخابی کمیشن کو تحریری شکایت بھیجی تھی اور بارہا اسکی پیروی کی گئی لیکن کمیشن نے جواب دینے سے انکار کیا۔ اسلام ٹائمز۔ عام آدمی پارٹی کے سینیئر لیڈر سوربھ بھاردواج نے ہفتے کے روز دہلی اسمبلی انتخابات میں ووٹ چوری کے گھوٹالہ کا الزام عائد کیا اور کہا کہ الیکشن کمیشن نے حقائق کو دبا دیا۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ انتخابات کے دوران ووٹ کاٹنے کی متعلق 6166 فرضی درخواستیں دائر کی گئیں اور جن لوگوں کے نام یہ درخواستیں پیش کی گئیں انہوں نے واضح طور کہا کہ انہوں نے کبھی ایسی درخواستیں پیش نہیں کیں۔ سوربھ بھاردواج نے بتایا کہ سابق وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے اس سلسلے میں انتخابی کمیشن کو تحریری شکایت بھیجی تھی اور بارہا اس کی پیروی کی گئی لیکن کمیشن نے جواب دینے سے انکار کیا۔ بعد میں پریس کانفرنس کے بعد وہی معلومات کمیشن کی جانب سے جاری کی گئیں، تاہم کسی ایف آئی آر یا گرفتاری کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
سوربھ بھاردواج نے الزام لگایا کہ کمیشن اصل ووٹ چوروں تک پہنچنے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے اور اس معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایچ ون بی ویزا فیس میں اضافے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس کا اثر ان ہندوستانی انجینئرز اور پروفیشنلز پر پڑے گا جو امریکہ جا کر کام کرتے ہیں اور انہیں واپس ملک آنا پڑے گا۔ سوربھ بھاردواج نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا، کیونکہ انہیں ایچ ون بی ویزا کی ضرورت نہیں۔ سوربھ بھاردواج نے ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ اور مرکزی وزیر منوہر لال کھٹر کے بیان پر بھی ردعمل ظاہر کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ دہلی کو پانی دریائے سندھ سے ملے گا۔
سوربھ بھاردواج نے کہا کہ دہلی کے شہریوں کو فی الحال ہریانہ سے پانی فراہم ہونا چاہیئے لیکن حکومت ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سندھ سے پانی کبھی آئے بھی تو ہریانہ اسے لے لے لیکن دہلی والوں کے لئے فوری حل ہریانہ کی جانب سے پانی فراہم کرنا ہے۔ سوربھ بھاردواج نے اس موقع پر انتخابی شفافیت، شہری سہولیات اور بیرون ملک ملازمت کرنے والے پیشہ ور افراد کے مسائل پر حکومت اور الیکشن کمیشن کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے زور دیا کہ ووٹ چوری کے گھوٹالہ پر فوری اور شفاف تحقیقات ہونی چاہیئے تاکہ جمہوری عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سوربھ بھاردواج نے نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ