اقوام متحدہ کی قرارداد کے بعد ایران کا ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون ختم کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
تہران: ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) سے تعاون ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ اعلان ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی جانب سے کیا گیا۔
روسی میڈیا کے مطابق یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران پر عائد پابندیوں کو ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی۔
ایران کا مؤقف ہے کہ یورپی ممالک کی جانب سے نئی پابندیوں کے باعث اب آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔
اگرچہ ایران نے تعاون ختم کرنے کا باضابطہ وقت نہیں بتایا، تاہم ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ خطے میں نئی کشیدگی کو جنم دے سکتا ہے۔
واضح رہے کہ جمعہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد کے حق میں صرف 4 ممالک نے ووٹ دیا، جبکہ 9 ممالک نے مخالفت کی، جس کے بعد قرارداد منظور نہ ہو سکی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
فیفا کی جانب سے امریکی فارورڈ فولارین بالوگن کی ایک میچ کی خودکار معطلی کا اقدام واپس لیے جانے کے فیصلے پر تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ناروے فٹبال فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر فیفا کی ایتھکس کمیٹی میں باضابطہ شکایت دائر کرنے پر غور کر رہی ہے۔
بالوگن کو بوسنیا ہرزیگووینا کے خلاف میچ میں اسٹریٹ ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا جس کے باعث انہیں بیلجیئم کے خلاف پری کوارٹر فائنل سے باہر ہونا تھا۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد فیفا نے ان کی ایک میچ کی پابندی 12 ماہ کے لیے معطل کر دی جس کے نتیجے میں وہ بیلجیئم کے خلاف میدان میں اترے مگر امریکا کو 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ناروے فٹبال فیڈریشن کی صدر لیزے کلاوینیس کے مطابق اس معاملے کو فیفا کی جانب سے ٹرمپ کو دیے گئے ’پیس پرائز‘ سے متعلق پہلے سے دائر شکایت کے ساتھ شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔
دوسری جانب بیلجیئم فٹبال فیڈریشن اور یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا نے بھی فیفا کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ فیفا نے بیلجیئم کی وضاحت طلب کرنے کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔