Islam Times:
2026-06-02@22:57:20 GMT

موضوع: دوحہ کانفرنس کا کمزور موقف ۔ پاک سعودی دفاعی معاہدہ

اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT

‍‍‍‍‍‍

تجزیہ ایک ایسا پروگرام ہے جس میں تازہ ترین مسائل کے بارے میں نوجوان نسل اور ماہر تجزیہ نگاروں کی رائے پیش کی جاتی ہے۔ آپکی رائے اور مفید تجاویز کا انتظار رہتا ہے۔ یہ پروگرام ہر اتوار کے روز اسلام ٹائمز پر نشر کیا جاتا ہے۔ متعلقہ فائیلیںتجزیہ انجم رضا کے ساتھ
موضوع: دوحہ کانفرنس کا کمزور موقف ۔ پاک سعودی دفاعی معاہدہ
تجزیہ نگار: پروفیسر ڈاکٹر عائشہ طلعت وزارت (سابق چیئرپرسن جامعہ کراچی شعبہ بین الاقوامی تعلقات
زیر گفتگو موضوعات:
1دوحہ کانفرنس کے بارے میں بین الاقوامی مبصرین کمزور موقف کی بات کر رہے ہیں، اور ان کا خیال ہے کہ دوحہ سربراہی اجلاس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گاِ قطر کی جانب سے بھی متوقع ردعمل دیکھنے کو نہیں ملا ، آپ کا کیا تجزیہ ہے؟؟
2اسرائیل کا قطر پر حملہ ، گریٹر اسرائیل کی جانب ایک اور قدم، مسلم ممالک اور خصوصا عرب حکومتوں کو کن اقدامات کی ضرورت ہے؟
3۔ ڈاکٹر علی لاریجانی)ایران نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری لبنان( اور عراق کے بعد سعودی عرب پہنچے ہیں جہاں ولی عہد اور وزیر دفاع سے ملاقات ہوئی، علی لاریجانی سفر سے پہلے اپنے ٹوئیٹ میں مسلم ممالک کے اسرائیل کے خلاف مشترکہ کمانڈ سینیئر کی بات کر چکے ہیں، کیا کہتے ہیں
4۔  قطر کانفرنس کے فوراً بعد پاکستان اور سعودی عرب کے مابین مشترکہ دفاع کا معاہدہ ہوا ہے اس کے بارے میں آپ کا  کیا تجزیہ ہے؟
 
خلاصہ گفتگو و اہم نکات:
دوحہ کانفرنس کا اعلامیہ اور موقف نہ تو واضح ہے نہ ہی مضبوط موقف
اگر موقف دلیرانہ ہو جارح ہمیشہ مدافعانہ پوزیشن میں چلا چلاجاتا ہے
کانفرنس کے ذریعے جارح صیہونی حکومت کو لگام دیئے جانے کا موقف ضروری تھا
خدشہ یہ ہے کہ کمزور موقف جارح صیہونی حکومت کو مزید شہ دینے کے مترادف ہے
صیہونی وزیر اعظم کا اقوامِ متحدہ میں گریٹر اسرائیل کا نقشہ پیش کرنا قابلِ تشویش ہے
قطر اور عرب ممالک کو اسرائیلی جارحیت کا فوری جواب دینا صورت حال کو متوازن کرتا
کانفرنس میں جمع ہونے والے ممالک کم ازکم اپنا الائنس ہی بنالیتے
جس  سے صیہونی حکومت کے مقابلے میں  deterrence بن جاتی
اس خطے اور پوری دنیا میں امن کے لئے صیہونی حکومت کے مقابلے deterrence پیدا کرنا ضروری ہے
دنیا میں نہ ہونے او ر رکنے والی جنگوں کے پیچھے وجہ ہی مقابل deterrence پیدا ہونا ہے
صیہونی حکومت کے مقابل مشترکہ کمانڈ سینٹر بننا ضروری ہے
ایران اور سعودی تعلقات مزید بہتر ہونے کی ضرورت ہے
ایران او ر سعودیہ باہمی ریلیشن شپ چین کی ثالثی سے بہت اچھی ہوتی جارہی ہے
اسرائیل کو بارہ روزہ جنگ کے بعد اندازہ ہوگیا ہے کہ ایرانی کی دفاعی صلاحیت کو ختم کرنا مشکل ہے
پاک سعودی مشترکہ دفاعی  معاہدہ میں دیگر مسلم ممالک بھی شامل ہونے چاہیئں
کیونکہ پاکستان کا دشمن بھارت کو لگام ہی مسلم ممالک کی مشترکہ دفاعی الائنس سے ہی دی جاسکتی ہے
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: دوحہ کانفرنس صیہونی حکومت مسلم ممالک

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان