صیہونی اخبار ہارٹز نے فاش کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ غزہ کی پٹی میں ایک بڑای سیاحتی مرکز تعمیر کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے لہذا امریکہ غزہ میں جنگ بندی کی قراردادیں ویٹو کر دیتا ہے تاکہ اس طرح نیتن یاہو کو غزہ کی مکمل تباہی اور وہاں کے فلسطینیوں کو جبری جلاوطن کرنے کا مناسب موقع فراہم ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ عبرانی زبان میں شائع ہونے والے اسرائیلی اخبار ہارٹز نے فاش کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی قراردادیں بار بار ویٹو کر دینے کی اصل وجہ یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو رئیل اسٹیٹ کا مالک ہے اور اس کا کام ہاوسنگ اسکیمیں اور رہائشی پراجیکٹس کے ٹھیکے لینا ہے، غزہ میں مکمل تباہی اور وہاں مقیم فلسطینی شہریوں کی جبری جلاوطنی کے بعد ایک عظیم سیاحتی شہر کی تعمیر کا خواب دیکھ رہا ہے۔ یہ ایک بہت بڑا پراجیکٹ ہے اور اس میں اسرائیلی فوجی افسروں کو بھی مفت گھر فراہم کرنے کا لالچ دیا گیا ہے۔ لہذا ایسے وقت جب غزہ میں گذشتہ چند سالوں سے جاری ظالمانہ اسرائیلی محاصرے اور دو سال سے زائد عرصے سے جاری فوجی بربریت کے نتیجے میں شدید قحط والی صورتحال پیدا ہو چکی ہے اور لاکھوں بچوں، خواتین اور عام شہریوں کی جانوں کو شدید خطرہ لاحق ہو چکا ہے لیکن اس کے باوجود امریکہ نے چھٹی بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی جنگ بندی کی قرارداد ویٹو کر دی ہے۔ غزہ کی پٹی میں نسل کشی انجام پانے کی تصدیق اقوام متحدہ کی انسپکٹر سمیت عالمی فوجداری عدالت بھی کر چکی ہے لیکن اس کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں امریکی حکومت غیر مشروط طور پر جرائم پیشہ اسرائیلی حکمرانوں کی بھرپور سیاسی، فوجی، سفارتی اور اقتصادی مدد جاری رکھے ہوئے ہے۔
 
صیہونی اخبار ہارٹز نے اس بارے میں لکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بنجمن نیتن یاہو کو غزہ میں کھلی چھٹی دے رکھی ہے کیونکہ وہ اس علاقے میں سیاحتی مرکز تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ یاد رہے ٹرمپ نے فروری میں کہا تھا کہ وہ غزہ میں ایک لگزری ساحلی شہر ریویرا تعمیر کرے گا۔ کچھ ماہرین کا خیال تھا کہ ٹرمپ کا یہ بیان محض زبانی کلامی ہے اور فلسطین کے طویل تنازعہ کے تناظر میں باقی آرزووں اور خیالات کی مانند بہت جلد فراموشی کا شکار ہو جائے گا لیکن اب ایسے شواہد سامنے آ رہے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے اس پراجیکٹ میں سنجیدہ ہے۔ صیہونی اخبار ہارٹز نے "زمین سے غزہ کو محو کرنے میں اسرائیل کا مال غنیمت" کے عنوان سے اپنے مقالے میں لکھا ہے: "غزہ کو اسرائیلی افسران کی ہاوسنگ اسکیم میں تبدیل کرنے کے عظیم پراجیکٹ کی خاطر اب تک سینکڑوں اسرائیلی فوجی مارے گئے ہیں اور دوسری طرف دسیوں ہزار فلسطینی بھی مارے گئے ہیں۔" عبرانی زبان میں شائع ہونے والے اس اخبار نے مزید لکھا کہ یہ پراجیکٹ دائیں بازو کے صیہونی وزیر سیکورٹی اتمار بن غفیر نے پیش کیا تھا جس کے تحت طے پایا تھا کہ غزہ کی پٹی میں تمام عمارتیں پوری طرح مسمار کر دی جائیں اور وہاں سے فلسطینیوں کو نکال باہر کر دیا جائے۔
 
مزید برآں ایک اور انتہاپسند صیہونی وزیر بیزالل اسموتریچ نے بھی اس بات پر زور دیا تھا کہ غزہ کی پٹی کو خالی کروانے کے بعد اسرائیل کے مال غنیمت میں تبدیل کر دینا چاہیے۔ اسموتریچ نے اس بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مذاکرات انجام پانے کی اطلاع بھی دی تھی۔ اسرائیلی اخبار ہارٹز اس بارے میں مزید لکھتا ہے: "بنجمن نیتن یاہو نے اب تک بیزالل اسموتریچ کے بیان پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ اسرائیلی کابینہ نے غزہ میں فوجی کاروائی کے بارے میں جو پالیسی بیان جاری کیا ہے اس کا اصل اہداف سے دور دور تک کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ کابینہ نے حماس کی نابودی اور یرغمالیوں کی آزادی کو اصل مقاصد کے طور پر بیان کیا ہے جبکہ پس پردہ سامراجی نوعیت کے عظیم اقتصادی منصوبے کارفرما ہیں۔" اس بات کا ایک اور ثبوت ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کئی ملین ڈالر پر مشتمل امدادی پیکجز کا لالچ دے کر اردن، مصر اور دیگر عرب ممالک کو اس بات پر راضی کرنے کی کوشش کرنا ہے وہ غزہ میں مقیم فلسطینیوں کو اپنے ملک میں رہنے کی اجازت دیں تاکہ یوں غزہ سے انہیں ہمیشہ کے لیے جلاوطن کر دینے کا زمینہ فراہم ہو سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اخبار ہارٹز نے ڈونلڈ ٹرمپ غزہ کی پٹی تھا کہ ہے اور کیا ہے

پڑھیں:

امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور

امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔

مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔

Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.

This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP

— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026

اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم