واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں بزنس ویزے کا حصول مزید مشکل ہو گیا ہے، امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایچ ون بی ویزے کی فیس بڑھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ایچ ون بی ویزے کی فیس ایک لاکھ امریکی ڈالرز کی جائے گی۔ یہ رقم تقریباً پاکستانی تین کروڑ روپے بنتی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی “رائٹرز“ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایک بڑے اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ایچ-ون بی (H-1B) ورک ویزا حاصل کرنے کے لیے کمپنیوں کو سالانہ ایک لاکھ ڈالر فیس ادا کرنا ہوگی۔

اس فیصلے سے امریکا کی ٹیکنالوجی انڈسٹری کو بڑا دھچکا لگ سکتا ہے جو بھارت اور چین سے آنے والے ہنر مند افراد پر انحصار کرتی ہے۔

ٹرمپ نے جنوری میں صدارت سنبھالنے کے بعد سے امیگریشن پر سخت پالیسیوں کا آغاز کیا تھا، اور اب ایچ-ون بی ویزا پروگرام میں یہ تبدیلی ان کی سب سے نمایاں کوشش قرار دی جا رہی ہے۔

امریکی کامرس سیکرٹری ہاورڈ لُٹ نِک نے اس حوالے سے کہا ہے کہ ’اگر آپ کسی کو ٹرین کرنے جا رہے ہیں تو اپنے ہی گریجویٹس کو ٹرین کریں۔ امریکیوں کو تربیت دیں۔ بیرون ملک سے لوگ لا کر ہماری نوکریاں چھیننا بند کریں۔‘

ٹیک انڈسٹری میں یہ فیصلہ ایک بڑے تنازع کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایچ-ون بی پروگرام کمپنیوں کو موقع دیتا ہے کہ وہ امریکی ورکرز کی جگہ غیر ملکی ملازمین کم تنخواہ پر رکھیں۔

دوسری جانب حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ پروگرام ہائی اسکلڈ ورکرز کو امریکا لاتا ہے، جو ٹیلنٹ گیپ کو پورا کرنے اور کمپنیوں کو عالمی سطح پر مسابقتی بنانے کے لیے ضروری ہیں۔

ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک، جو خود بھی ایچ-ون بی ویزا ہولڈر رہ چکے ہیں، انہوں نے اس پروگرام کی حمایت کی ہے۔

ٹرمپ نے جمعے کو ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے تھے، جس کے مطابق بعض کمپنیوں نے اس پروگرام کا غلط استعمال کرتے ہوئے امریکی ورکرز کو نقصان پہنچایا۔ حکم نامے میں بتایا گیا کہ سنہ 2000 سے 2019 کے درمیان امریکا میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور میتھ کے شعبوں میں غیر ملکی ورکرز کی تعداد دگنی ہو کر 25 لاکھ تک پہنچ گئی، حالانکہ اسی دوران امریکی STEM ملازمتوں میں صرف 44.

5 فیصد اضافہ ہوا۔

رائٹرز کے مطابق، کاروباری ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایک لاکھ ڈالر سالانہ فیس کی شرط دنیا کے بہترین دماغوں کو امریکا آنے سے روک سکتی ہے۔

وینچر کیپیٹل فرمز نے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام امریکا کی جدت اور معاشی ترقی کی رفتار کو سست کر دے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق چھوٹی ٹیک کمپنیوں اور اسٹارٹ اپس پر اس کا سب سے زیادہ بوجھ پڑے گا۔

کچھ ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ یہ پالیسی کمپنیوں کو ہائی ویلیو کام بیرون ملک منتقل کرنے پر مجبور کر سکتی ہے، جس سے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں چین کے مقابلے میں امریکا کی پوزیشن کمزور ہو جائے گی۔

اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں ایچ-ون بی ویزا سے سب سے زیادہ فائدہ بھارت نے اٹھایا، جس کے حصے میں 71 فیصد منظور شدہ درخواستیں آئیں، جبکہ چین دوسرے نمبر پر 11.7 فیصد کے ساتھ رہا۔

صرف 2025 کے ابتدائی چھ ماہ میں ایمیزون اور اس کی کلاؤڈ کمپنی اے ڈبلیو ایس (AWS) کو 12 ہزار سے زائد ویزا ملے جبکہ مائیکروسافٹ اور میٹا کو 5،5 ہزار سے زیادہ ویزا کی منظوری ملی۔

کامرس سیکرٹری لُٹ نِک نے کہا کہ ’تمام بڑی کمپنیاں اس فیصلے پر متفق ہیں، ہم نے ان سے بات کر لی ہے۔‘

تاہم کئی بڑی ٹیک، بینکنگ اور کنسلٹنسی کمپنیوں نے اس پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ بھارتی سفارتخانے اور چینی قونصلیٹ نے بھی فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

فیصلے کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹ میں بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کے حصص گر گئے۔ کوگنزنٹ کی اسٹاک ویلیو 5 فیصد تک نیچے آگئی، جبکہ انفوسس اور وپرو کے شیئرز میں 2 سے 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

امیگریشن پالیسی کے ماہرین نے نئے فیس اسٹرکچر کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ امریکن امیگریشن کونسل کے پالیسی ڈائریکٹر ایرون ریچلن-ملنک نے کہا کہ کانگریس نے صرف اتنی فیس کی اجازت دی ہے جو درخواست کے پراسیس کے اخراجات پورے کرے، اس سے زیادہ نہیں۔

فی الحال ایچ-ون بی ویزا پروگرام کے تحت ہر سال 65 ہزار ویزے دیے جاتے ہیں، جبکہ ایڈوانس ڈگری رکھنے والے ورکرز کے لیے اضافی 20 ہزار ویزے مختص ہیں۔ یہ ویزا تین سے چھ سال کے لیے جاری ہوتا ہے۔

اسی روز ٹرمپ نے ایک اور صدارتی حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے “گولڈ کارڈ“ اسکیم کا بھی اعلان کیا ہے جس کے تحت جو لوگ 10 لاکھ ڈالر ادا کرنے کے متحمل ہیں وہ امریکی شہریت حاصل کر سکیں گے۔

Post Views: 1

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ایچ ون بی ویزا کمپنیوں کو کرتے ہوئے کے مطابق سے زیادہ کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔

صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔

بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔

اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک  کیلیے وبال جان بن گئے
  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام