کراچی:

یونیورسٹی روڈ کی بدترین زبوں حالی پر جماعت اسلامی اور سندھ حکومت آمنے سامنے آگئے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کی جانب سے کئی برس سے زیر تعمیر یونیورسٹی روڈ کی عدم تکمیل کیخلاف ایکشن کمیٹی قائم کرنے کے اعلان پر سندھ حکومت کا ردعمل سامنے آگیا۔

حکومت سندھ کے ترجمان مصطفیٰ بلوچ نے جماعت اسلامی کراچی کے امیر کی پریس کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کی ترقی اور عوامی سہولیات کے لئے صوبائی حکومت بڑے منصوبوں پر دن رات کام کر رہی ہے۔

 مصطفیٰ بلوچ نے اپنے بیان میں کہا کہ ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبہ بین الاقوامی معیار کے تحت بنایا جا رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر اور مختلف یوٹیلٹی سروسز کی منتقلی درکار ہے جو وقت طلب کام ہے، بڑے منصوبے ہمیشہ کچھ وقت لیتے ہیں، یہ کوئی گلی محلے کی مرمت نہیں کہ ایک دن میں مکمل کرلیں۔

مزید پڑھیں: جماعت اسلامی کا یونیورسٹی روڈ کی تعمیر کیلئے ایکشن کمیٹی بنانے کا اعلان

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں میگا پراجیکٹس کے لئے کئی سال لگتے ہیں، لیکن ان کی تکمیل کے بعد عوام کو دہائیوں تک سہولت ملتی ہے، جماعت اسلامی کی جانب سے بی آر ٹی پر تنقید سیاسی ناپختگی کو عیاں کرتی ہے، جن لوگوں نے کراچی کے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ہمیشہ الزام تراشی کی سیاست کی، وہ آج ہمیں ترقیاتی منصوبوں پر لیکچر دے رہے ہیں۔

مصطفیٰ بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی یہ بتائے کہ اربوں روپے کے فنڈز ملنے کے باوجود انہوں نے وہ سڑکیں کیوں نہیں بنائیں جو ان کے ماتحت ہیں؟، آج بھی عوام پوچھ رہے ہیں کہ جماعت اسلامی کو ملنے والا پیسہ کہاں گیا؟ جماعت اسلامی کی بدانتظامی اور لاپرواہی کے باعث ماڈل ٹاؤن میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ لوگ گڑھوں میں دب کر اپنی زندگیاں ہار بیٹھے، کسی کی بھی کوتاہی یا غفلت سے کسی کی جان جانا معمولی بات نہیں، یہ سنگین جرم ہے۔ 

ترجمان سندھ حکومت کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور صوبائی حکومت شفافیت اور خدمت پر یقین رکھتی ہے، ہمارے منصوبے عوام کے لئے ہیں، جماعت اسلامی کی سیاست صرف الزام تراشی پر ہے، کراچی کے عوام باشعور ہیں، وہ جانتے ہیں کہ خدمت کون کر رہا ہے اور سیاست کون کر رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: یونیورسٹی روڈ کی جماعت اسلامی سندھ حکومت

پڑھیں:

پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔

تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع

وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی