حجاج کا ڈیٹا ڈارک ویب پر دستیاب ہونا اداروں کی نااہلی ہے،جماعت اسلامی
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور ( نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے چیئرمین پی ٹی اے میجرجنرل(ر) حفیظ الرحمان کے انکشاف جس میں انہوں نے کہا ہے کہ حج کیلئے اپلائی کرنے والے تین لاکھ افراد کا دیٹا ڈارک ویپ پر دستیاب ہے‘‘ پر اپنا شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانیوں کے دیٹا کو محفوظ بنانے کے لئے حکومتی اقداما ت نہ ہونے کے برابر ہیں، شہباز حکومت کی ساری توجہ مخالفین کو دبانے پر مرکوز ہو چکی ہے۔کسی بھی شخص کی پرسنل معلومات کا یوں مختلف ویب سائٹس پر فروخت ہونا تشویشناک امر ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مطابق پاکستان میں موبائل براڈ بینڈ صارفین کی تعداد 13 کروڑ 90 لاکھ سے زائد اور انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 14 کروڑ 30 لاکھ ہے۔ملک میں انٹرنیٹ جرائم کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ بھی ہو گیا ہے۔ سال 2025ء کے دوران سائبر کرائم میں سو فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ گزشتہ 5 سال کے دوران سائبر کرائم کے مقدمات میں سزاؤں کی شرح 5 فیصد سے کم رہی ہے۔وزارت داخلہ کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے تحریری جواب کے مطابق سال 2020 سے اب تک سائبر کرائم کے الزامات میں 7 ہزار 20 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے صرف 222 کو سزا سنائی گئی، یعنی سزا کی شرح صرف 3.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔