پنجاب میں صوبہ بن سکتاہے توسندھ میں کیوں نہیں؟ خالد مقبول
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
صوبے کے مطالبے کو غداری قرار دینا خود سب سے بڑی غداری ہے، صرف اتنا سچ بولوں گا جتنی جمہوریت آزاد ہے
میں 5 مرتبہ ایم این اے بنا ہوں، اپنی جیب سے ایک روپیہ خرچ نہیں کیا،وفاقی وزیرکا کراچی چیمبر آف کامرس میں خطاب
وفاقی وزیرِ تعلیم خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ کراچی کی تقسیم جائز ہے تو سندھ کی تقسیم غلط کیسے ہے؟ پنجاب اور کے پی کے میں صوبے بن سکتے ہیں تو سندھ میں صوبہ کیوں نہیں بن سکتا۔میں 5 مرتبہ ایم این اے بنا ہوں، اپنی جیب سے ایک روپیہ خرچ نہیں کیا۔خالد مقبول صدیقی نے کراچی چیمبر آف کامرس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا یہاں موجود ہے، صرف اتنا سچ بولوں گا جتنی جمہوریت آزاد ہے کیونکہ میں نے نصف زندگی جلا وطنی میں گزاری ہے، جماعت اسلامی کا مشکور ہوں کہ ہمارے سب کافرانہ نعرے اب آپ کے بینرز پر آویزاں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی دنیا میں فلاح وبہبود کا دارالحکومت ہے، کراچی دنیا کی مدد کررہا ہے لیکن کراچی کی کوئی مدد نہیں کررہا ہے۔پاکستان کی سیاست کے جمعہ بازار کے ساتھ ہم آہنگ ہونا آسان ہے، تاہم ہم نے مشکل راستہ چنا، ایم کیو ایم واحد ایسی جماعت ہے جو خاندانی نہیں ہے، میرے ہونے نہ ہونے سے ایم کیو ایم کو کوئی فرق نہیں پڑتا، ایک اور بھی ایسی جماعت ہے جس کا اگر لیڈر نہ ہو تو وہ کچھ بھی نہیں ہوگی۔وزیر تعلیم نے کہا کہ کراچی کی مردم شماری، حلقہ بندی اور ووٹر لسٹ کو درست کروانے کا مطالبہ کیا جائے، کراچی کے پانی اور نکاسی کے منصوبے فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال کے دیے گئے ہیں، پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں کراچی کا سب سے سنہرا دور 1990ء سے 1992ء تک کا تھا، بہت سے لوگوں کو کراچی کا امن نہیں بدامنی بہتر لگتی ہے، آگمینٹیشن اگر نہ آئی تو ٹینکر مافیا ارب پتی سے کھرب پتی بن جائے گا۔خالد مقبول کا کہنا تھا کہ کراچی کی تقسیم جائز ہے تو سندھ کی تقسیم غلط کیسے ہے؟ پنجاب اور کے پی کے میں صوبے بن سکتے ہیں تو سندھ میں صوبہ کیوں نہیں بن سکتا، مرتضی وہاب کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں، مرتضیٰ وہاب پر ان کی اپنی پارٹی بھی اعتماد نہیں کرتی۔ان کا کہنا تھا کہ بجلی کے مسئلے پر ایم کیو ایم نے 11 پریس کانفرنس کی ہیں، 1972 میں 67 لاکھ کی آبادی مردم شماری میں 36 لاکھ کردی گئی تھی۔قبل ازیں کراچی چیمبر کے صدر جاوید بلوانی اور بی ایم جی کے چیٔرمین زبیر موتی والا نے بھی خطاب کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: خالد مقبول کراچی کی کی تقسیم کہ کراچی تو سندھ
پڑھیں:
سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
(سٹی42)سندھ حکومت نے مہنگے داموں پاسکو سے گندم خرید کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
2024 کی پرانی گندم پاسکو سے خرید ی جائے گی،پاسکو نے فی 40 کلو گرام کا 4150 روپے نرخ مقرر کیا ہے۔
پاسکو نے 2 لاکھ 20 ہزار 665 میٹرک ٹن گندم سندھ کو دینے کی پیشکش کی ہے،سندھ نے کاشت کاروں کیلئے 3500 روپے گندم خریداری کا نرخ مقرر کیا تھا لیکن کاشت کاروں نے کم نرخ کی وجہ سے گندم حکومت کو نہیں دی اورسندھ حکومت ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم نہیں خرید سکی۔
سندھ حکومت نےرواں سال 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم خرید کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا،اب سندھ حکومت 650 روپے فی 40 کلو گرام 650 روپے مہنگی گندم خرید رہی ہے،سندھ حکومت نے بیرون ممالک سے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
محکمہ خوراک سندھ کے مطابق صوبے کو 16 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم کی قلت کا سامنا ہے، سندھ میں گندم کی ضرورت 65 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن ہے،سندھ میں گندم کی پیداوار 47 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ہوئی ، جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن پرانی گندم کے ذخائر موجود ہیں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
محکمہ خوراک کے مطابق اوپن مارکیٹ میں زیادہ نرخ کی وجہ کاشت کاروں سے گندم خرید نہیںسکے،گندم کی قلت کا سامنا کرنے کی وجہ سے گندم درآمد کرنی پڑے گی،سندھ کابینہ نے گزشتہ روز گندم در آمد کرنے کی منظوری دیدی ہے۔