ایس ایس پی انویسٹی گیشن پشاور عائشہ بانو خواتین کے مسائل کو کیسے دیکھتی ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
ایس ایس پی انویسٹی گیشن پشاور عائشہ بانو نے کہا ہے کہ تفتیشی نظام کو مزید بہتر بنانے اور خواتین کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ محکمے میں خواتین پولیس افسران کی اشد ضرورت ہے تاکہ خواتین کو درپیش مسائل کو بہتر انداز میں حل کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: لیڈی پولیس آفیسر کا کارنامہ، متاثرہ خاتون کو مشتعل ہجوم سے بچانے میں کامیاب
عائشہ بانو پشاور میں بحیثیت ایس ایس پی انویسٹی گیشن تعینات ہونے والی پہلی خاتون پولیس آفسیر ہیں۔
عائشہ بانو نے کہاکہ خواتین پر گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ تشویشناک ہے، جبکہ خیبرپختونخوا کی خواتین کو کئی سماجی و معاشرتی چیلنجز کا سامنا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ خواتین کے لیے ان کے دفتر کے دروازے ہر وقت کھلے رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں پہلی بار ہندو پولیس آفیسر کی تعیناتی، نوجوان روپ متی بھی منزل پانے کو تیار
خاتون ایس ایس پی انویسٹی گیشن کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پولیس خواتین کو سہولیات اور تحفظ فراہم کرنے میں پیش پیش ہے، اس لیے زیادہ سے زیادہ خواتین کو محکمہ پولیس میں شمولیت اختیار کرنی چاہیے تاکہ ایک متوازن اور مضبوط پولیس فورس تشکیل دی جا سکے۔ مزید انہوں نے کیا کہا، جانیے اس ویڈیو رپورٹ میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ایس ایس پی انویسٹی گیشن تفتیشی نظام عائشہ بانو وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایس ایس پی انویسٹی گیشن تفتیشی نظام وی نیوز ایس ایس پی انویسٹی گیشن خواتین کو پولیس ا
پڑھیں:
گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
گھوٹکی میں ڈہرکی سے سابق رکن صوبائی اسمبلی شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا گیا۔
ایس ایس پی گھوٹکی انور کھیتران کا کہنا ہے کہ جہانگیر شر کو نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے اغوا کیا تھا۔ واقعے کی اطلاع پر پولیس اور قبیلے لوگوں نے اغوا کاروں کا تعاقب کیا۔
انہوں نے بتایا کہ بچے کو پولیس نے مقابلے کے بعد بازیاب کروا لیا تاہم اس دوران ملزمان فرار ہوگئے۔
ایس ایس پی گھوٹی کا کہنا تھا کہ اغواکاروں کی نشاندہی ہوگئی ہے، ملزمان کا تعلق بھی شر قبیلے سے ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے تعاقب جاری ہے۔