اقتصادی سرگرمیوں کے روڈ میپ میں نجی شعبے کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا،وزیراعظم شہباز شریف کا زوم پر اجلاس سے خطاب
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
لندن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 22 ستمبر2025ء) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قابل عمل منصوبوں کی نشاندہی کر کے ان کو عملی شکل دینے کے لئے فوری اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ زراعت، آئی ٹی، معدنیات، سیاحت اور قابل تجدید توانائی اہم شعبے ہیں جن میں بیرون ممالک سے سرمایہ کاری آ سکتی ہے،اقتصادی سرگرمیوں کے روڈ میپ میں نجی شعبے کا کلیدی کردار ہوگا ، اس کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیرکوپاکستان میں سرمایہ کاری کے حجم، اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے اعلی سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔لندن سے زوم پر ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر ماحولیات مصدق ملک، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک ،وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب،وفاقی وزیر تجارت جام کمال، وزیر اطلاعات ونشریات عطا اللہ تارڑ اور وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ شریک ہوئے۔(جاری ہے)
وزیراعظم نے کہا کہ تمام اہم شعبوں میں سرمایہ کاری اور تجارت کو فروغ دینے کے لئے قابل عمل منصوبوں پر کام کیا جائے،زراعت، آئی ٹی، معدنیات، ٹورازم اور قابل تجدید توانائی اہم شعبے ہیں جن میں بیرون ممالک سے سرمایہ کاری آ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ تجارت کو بھی فروغ دینا ہماری پالیسی کا حصہ ہے، تاکہ ہماری درآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وزارتوں کو ٹارگٹ دئیے ہیں اور تمام زیر تکمیل منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لئے مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک روڈ میپ اور تبدیلی کا ایجنڈا بنایا جائے تاکہ اپنے اہداف کے حصول کے لئے ایک منظم انداز میں آگے بڑھا جاسکے، اقتصادی سرگرمیوں کے روڈ میپ میں نجی شعبے کا کلیدی کردار ہوگا اور ا س کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا،ہماری جاری معاشی اور اقتصادی اصلاحات کی پالیسی نے معیشت کو ایک نئی سمت دی ہے اور اس جدت اور شفافیت کی بدولت ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ وزیر اعظم نے وزرا کو ہدایت کی کہ قابل عمل منصوبوں کی نشاندہی کر کے ان کو عملی شکل دینے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔\932.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سرگرمیوں کے سرمایہ کاری بنایا جائے وفاقی وزیر نے کہا کہ روڈ میپ کے لئے
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند