آزادی مارچ کیس،جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس،سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل اور اسد قیصر کے وارنٹ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250923-01-6
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل کے آزادی مارچ کیس جبکہ جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے گئے ۔ تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف آزادی مارچ کیس میں سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ
مبشر حسن چشتی نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف آزادی مارچ کیس کی سماعت کی، عدالت نے سماعت کے دوران وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ عمران اسماعیل کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جائے۔ واضح رہے عمران اسماعیل تھانہ بارہ کہو کے درج مقدمے میں نامزد ملزم ہیں، جبکہ اس مقدمے میں عمران خان سمیت متعدد دیگر رہنما پہلے ہی بری ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیںاسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں اسد قیصر کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے، سابق اسپیکر قومی اسمبلی کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی و دیگر کے خلاف جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس کی سماعت ہوئی۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کیس پر سماعت کی۔ عدالت نے رہنما پی ٹی آئی اسد قیصر کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے سابق اسپیکر قومی اسمبلی کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی، سابق وفاقی وزرا اسد عمر اور شبلی فراز کی حاضری سے استثنا کی درخواستیں منظور کرلی۔ دوسری جانب، بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے وزارت قانون کو لکھے گئے خط کا جواب تاحال نہ آیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 6 اکتوبر تک ملتوی کردی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسد قیصر کے وارنٹ گرفتاری جاری جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس ا زادی مارچ کیس کو گرفتار کرکے عمران اسماعیل پی ٹی ا ئی عدالت نے میں پی
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔