پی ٹی آئی کا ایجنڈا ریاست مخالف نہیں، پارٹی عمران خان کی ہدایات پر چلتی ہے، بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
راولپنڈی : پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا ایجنڈا ریاست مخالف نہیں، عمران خان نے بھی کہا ہے ملک بھی ہمارا ہے، فوج بھی ہماری ہے۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر کا کہنا تھاکہ آج مجھے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، امید ہے کل ملاقات ہو جائے گی، ملاقات ضروری ہے عدالتی احکامات بھی ہیں، اس سے حالات بہتر ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف ملک میں قدرتی آفات آئی ہے، دوسری جانب ہیجانی کیفیت ہے، اگر ملاقات نہیں کرنے دی جاتی ہے تو اس سے دوریاں بڑھیں گی۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھاکہ پارٹی بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایات پر چلتی ہے سوشل میڈیا پر نہیں، ہمارا ریاست مخالف ایجنڈا نہیں، پی ٹی آئی ملکی سیاست میں ہے، ہم آئین کی بالادستی اور جمہوریت کی بات کر رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھاکہ بانی پی ٹی آئی نے خود بھی کہا ہے ملک بھی ہمارا، فوج بھی ہماری ہے، پاکستان کی بات آئی تو ہم سارے بھارت کے خلاف اپنے ملک کے ساتھ کھڑے ہو گئے، 6 صفر سے ہم جیتے ہیں اس کی مثال دنیا میں نہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہاکہ پاکستان سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ اچھی بات ہے، ہم نے ہمیشہ سعودی عرب کی حمایت ہے، ہمارا تعلق بہت مضبوط ہے، پی ٹی آئی کا شروع دن سے مؤقف ہے جو چیز امت کو مضبوط کرے گی ہم حمایت کریں گے، پاکستان امت مسلمہ کیلئے ایک قلعہ کا کردار ادا کررہا ہے، پی ٹی آئی معرکہ حق میں بھی پیش پیش تھی، ہم نے مکمل حمایت کی۔
پی ٹی آئی چیئرمین کا کہناتھاکہ فیئر ٹرائل کا مقصد ہے آپ ملزم کو صفائی دینے کا ہر طرح کا موقع دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیلاب متاثرین کی جس طرح مدد کرنی چاہیے بدقسمتی سے ویسے نہیں ہو رہی، متاثرین کو ادویات مویشیوں کیلئے چارے، گھروں اور دیگر سہولیات کی ضرورت ہے، حکومت سیلاب متاثرین میں فی فیملی 10 ہزارروپے دےرہی ہے جوبہت کم ہیں، ہم نے پنجاب میں بھی سیلاب متاثرین کی مدد کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔