لاہور:

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کراچی کے عوام کے 3 ہزار 360 ارب روپے کا حساب دے، مرتضیٰ وہاب کے چہرے کے پیچھے جاگیردارانہ سیاست کار فرما ہے۔

منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ تمام صوبائی حکومتیں بلدیاتی نظام کو یرغمال بنا کر بیٹھی ہیں اور عوامی مسائل حل نہیں ہونے دیے جا رہے۔

انہوں نے کہا کہ پاک بھارت میچ میں شکست کی ذمہ داری قومی ٹیم پر نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی ناقص حکمت عملی پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی خود ایڈہاک بنیادوں پر کام کر رہے ہیں، انہیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ وزارت کریں گے یا بورڈ کی سربراہی سنبھالیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کپتانوں کی بار بار تبدیلی نے ٹیم کے کھیل کو متاثر کیا اور یہ ناکامی براہِ راست بورڈ کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

فلسطین کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ صرف فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا کافی نہیں، بلکہ دنیا کو اسرائیل کے مظالم کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ گریٹر اسرائیل کے منصوبے میں سعودی عرب، لبنان اور شام تک شامل ہیں، اس لیے پاک سعودی عرب دفاعی معاہدہ خوش آئند ہے تاہم یہ معاہدہ صرف دو ممالک تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ تمام اسلامی ممالک کو اس میں شامل کر کے ایک مشترکہ دفاعی اور معاشی بلاک تشکیل دینا چاہیے تاکہ امت مسلمہ کو مضبوط بنایا جا سکے۔

امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ یکم اکتوبر سے سات اکتوبر تک جماعت اسلامی ملک بھر میں اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف ملین مارچ کے ذریعے فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس دوران جماعت اسلامی کسان تنظیموں کو بھی ایک پلیٹ فارم پر جمع کرے گی اور ان کے مسائل کے حل کے لیے مشاورت سے لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سیلاب سے متاثرہ کسانوں کی فوری امداد کرے۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان جماعت اسلامی حافظ نعیم نے کہا کہ

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف