برطانیہ کا فلسطین کو تسلیم کرنا خوش آئند ،تاہم غزہ میں جنگ بندی بنیاد اہمیت کی حامل ہے،حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250923-01-4
لاہور: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن منصورہ میں پریس کا نفرنس سے خطاب کر رہے ہیں
لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ اسرائیلی بمباری سے غزہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے ، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک کا فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان خوش آئندہ تاہم غزہ میں جنگ بندی بنیادی اہمیت کی حامل ہے، عالمی برادری اس اہم معاملے پر فوری توجہ دے۔منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے
کہا کہ امریکا جہاں گزشتہ 2برس سے فلسطین پر صہیونی مظالم کی پشت پناہی کررہا ہے وہیں اس نے قطر پر حالیہ اسرائیلی حملہ اور قبل ازیں ایران پر جارحیت کو بھی مکمل حمایت فراہم کی۔مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی صورتحال کے تناظر میں پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے ، جماعت اسلامی اسے خوش آئند قرار دیتی ہے ، تاہم ایران سمیت دیگر اسلامی ممالک کو بھی اس معاہدہ کا حصہ ہونا چاہیے، اگر ایسا ہوگیا تو کسی کو مسلمان ممالک کی جانب آنکھ اٹھانے کی جرآت نہیں ہوگی۔ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ ، امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی جاوید قصوری اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی بھی اس موقع پر موجود تھے۔امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ مغربی ممالک کے فلسطین کو تسلیم کرنے کے اعلانات کے ساتھ حماس کو فلسطین سے علیحدہ کرنے کی سازش قبول نہیں کی جائے گی ، تحریک مزاحمت حماس فلسطینیوں کی نمائندہ جمہوری تنظیم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی جانب سے بھی مسئلہ فلسطین کے 2ریاستی حل کی باتیں نہ کی جائیں۔اسرائیل کو کسی صورت تسلیم نہ کرنا بانی پاکستان کی وضح کردہ قومی پالیسی ہے۔امیر جماعت اسلامی نے خطے میں امن کے لیے اسلام آباد اور کابل کے درمیان مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پاک افغان حکومتوں کے درمیان بات چیت کے آغاز کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ افغان پناہ گزینوں کی واپسی باعزت طریقے سے ہونی چاہیے۔ افغان سرزمین کسی صورت بھی پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے طالبان حکومت کی جانب سے بگرام ائر بیس کی حوالگی کے امریکی مطالبہ پر واضح انکار کو بھی خوش آئند قراردیا۔ ملک میں سیلاب کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے سیلاب زدہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دینے، متاثرین کی امداد کے لیے شفاف نظام کی تشکیل اور زراعت پر سبسڈی کے مطالبات کیے ہیں۔ انہوں نے یکم تا 7 اکتوبر ہفتہ یکجہتی فلسطین منانے اور کسانوں کے حقوق کے لیے کسان کارواں نکالنے کے اعلانات کیے۔ کارواں کے آغاز سے قبل منصورہ میں ملک بھر کی کسان نمائندہ تنظیموں سے مشاورت کی جائے گی۔امیر جماعت نے کہا کہ بلاول کا سیلاب متاثرین کو بے نظیر انکم سپورٹ کے ذریعے امداد فراہم کرنے کی بات بے سروپا ہے کیونکہ بے نظیر انکم پروگرام مکمل فراڈ ہے اسی طرح پنجاب حکومت کی جانب سے کسان کارڈ نامی اسکیم بھی دھوکا دہی اور محض نمائشی اقدام ہے۔ سیلاب متاثرہ کسانوں کو فی ایکڑ 25 ہزار دیے جائیں ، مشاورت سے گندم کی فی من قیمت ساڑھے 4 ہزار مقرر کی جائے ، عوام کو آٹا اور کسان کو بیج ، کھاد اور زرعی ادویات پر سبسڈی دی جائے۔ جماعت اسلامی آئندہ ہفتہ کسان تنظیموں سے مشاورت کرے گی اور اس کے بعد کسان کارواں کا اعلان کیا جائے گی۔ 5 اکتوبر کو کراچی میں اور اس سے قبل لاہور میں فلسطین ملین مارچ ہوں گے۔ جماعت اسلامی کا 21 ،22 اور23 نومبر کو مینار پاکستان پر ہونے والے تاریخی اجتماع عام فرسودہ نظام میں تبدیلی کا آغاز ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی انہوں نے کی جانب کے لیے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔