ویب ڈیسک: سندھ حکومت نے مزدوروں کے لیے ایک انقلابی منصوبہ ’’ویلفیئر کارڈ‘‘ شروع کیا ہے، جس کا مقصد صوبے بھر کے رجسٹرڈ صنعتی مزدوروں کو جامع سہولیات فراہم کرنا ہے۔

یہ پروگرام ڈیجیٹل رسائی کے ذریعے مختلف سہولتیں فراہم کرتا ہے، جن میں حادثاتی انشورنس، مالی امداد اور ملازمت سے متعلق سہولتیں شامل ہیں۔

رجسٹرڈ مزدوروں کے لیے فوائد

متنازع ٹویٹ کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

مفت حادثاتی ہیلتھ انشورنس, سالانہ سات لاکھ روپے تک کا کوریج, ملک بھر میں 270 سے زائد اسپتالوں میں کیش لیس علاج کی سہولت, 24/7 ڈیوٹی اور آف ڈیوٹی دونوں صورتوں میں کوریج, کوریج صرف حادثاتی مسائل پر لاگو ہوگی, ڈیجیٹل تصدیق کے ذریعے فوری اہلیت کی جانچ.

اضافی سہولتیں

10 ہزار ای-موٹر سائیکلیں، سلائی مشینیں اور دیگر اشیاء کی تقسیم, موت کے بعد گرانٹ، شادی امداد، وظائف اور دیگر فلاحی فنڈز تک رسائی, ڈیجیٹل نظام – کوئی کاغذی کارروائی نہیں.

دوران حمل بھوکا رکھ کر اذیت دی، شہرت ملتے ہی چھوڑدیا: کمار سانو کی سابقہ اہلیہ کا الزام

تمام سہولتیں شناختی کارڈ سے منسلک ڈیجیٹل پروفائل کے ذریعے www.wwbs.gos.pk پر دستیاب ہیں۔ رجسٹریشن کے بعد مزدور یہ سہولتیں حاصل کر سکیں گے. 

نادرا، ای او بی آئی اور ملازمت کے ریکارڈ کے ذریعے فوری اہلیت کی تصدیق، ایجنٹوں، کاغذی کارروائی یا دفتر کے چکر کی ضرورت ختم۔

سندھ ویلفیئر کارڈ کے لیے رجسٹریشن کا طریقہ

وزٹ کریں: https://wwcs.wwbs.gos.pk:444/
اپنا شناختی کارڈ نمبر، ملازمت اور صنعت سے متعلق معلومات درج کریں، سسٹم فوری طور پر آپ کی اہلیت کی تصدیق کرے گا۔
تصدیق کے بعد آپ کا ڈیجیٹل پروفائل فعال ہو جائے گا، کسی فزیکل کارڈ کی ضرورت نہیں ہوگی، صرف رجسٹرڈ صنعتی مزدور ہی اس پروگرام کے اہل ہیں۔ (ان کے زیرکفالت افراد شامل نہیں ہیں۔

عثمان ڈیمبیلے نے بیلن ڈی اور جیت کر تاریخ رقم کردی، پہلے سیاہ فام مسلمان فٹبالر بن گئے

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: کے ذریعے

پڑھیں:

میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔

سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار

ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ

متعلقہ مضامین

  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت