پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے منگل کو کاروباری ہفتے کا آغاز مثبت رجحان کے ساتھ کیا، جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس نے ابتدائی گھنٹوں میں تقریباً 1200 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔

صبح 10 بج کر 55 منٹ پر کے ایس ای-100 انڈیکس 1,179.62 پوائنٹس یعنی 0.75 فیصد اضافے کے ساتھ 158,734.28 پر موجود تھا۔

کاروباری سرگرمیوں میں نمایاں خریداری آٹوموبائل، سیمنٹ، کمرشل بینکس، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اور بجلی پیدا کرنے والے شعبوں میں دیکھنے میں آئی۔

Market is up at midday ????
⏳ KSE 100 is positive by +1023.

34 points (+0.65%) at midday trading. Index is at 158,578 and volume so far is 382.86 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/Ps55uTRu3Q

— Investify Pakistan (@investifypk) September 23, 2025

بڑے درجے کے شیئرز جیسے ہبکو، ماری، او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، پی ایس او، ایم سی بی، میزان بینک اور یو بی ایل سبز زون میں ٹریڈ ہوئے۔

دوسری جانب، پاکستان نے چین کے ساتھ جاری مذاکرات میں چائنا پاکستان فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے تیسرے مرحلے کے تحت تقریباً 700 مصنوعات پر یکطرفہ ٹیرف چھوٹ کی درخواست کی ہے۔

وزارتِ تجارت کے مطابق، چائنا پاکستان فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے دوسرے مرحلے کے بعد پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے، تاہم دیگر ملکوں کے ساتھ چین کے آزاد تجارتی معاہدوں کے باعث پاکستان کی ترجیحی مارکیٹ تک رسائی کمزور ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ بہت جلد بڑا سنگ میل عبور کرے گی، وجوہات کیا ہیں؟

اس سے قبل پیر کے روز اسٹاک مارکیٹ منفی زون میں بند ہوئی تھی، جب سرمایہ کاروں نے گزشتہ ہفتے کی تیز رفتار تیزی کے بعد منافع سمیٹنے کو ترجیح دی۔

کے ایس ای 100 انڈیکس 482.71 پوائنٹس یعنی 0.31 فیصد کمی کے بعد 157,554.66 پر بند ہوا۔

عالمی سطح پر، ایشیائی حصص بازاروں نے منگل کو بھی تیزی کا سلسلہ جاری رکھا۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبے میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اور امریکہ میں مزید شرح سود میں کٹوتیوں کی توقعات نے سرمایہ کاروں کو پرکشش مواقع فراہم کیے۔

مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری حجم 26 ارب روپے سے زائد، اسٹاک مارکیٹ کا مستقبل کیا ہوگا؟

سونے کی قیمتیں بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں اور فی اونس 3,755.47 ڈالر تک جا پہنچیں، جو اس ماہ اب تک تقریباً 9 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔

وال اسٹریٹ میں اینویڈیا کی جانب سے اوپن اے آئی میں 100 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کے اعلان نے مارکیٹ کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق پہلا ڈیٹا سینٹر سازوسامان 2026 کی دوسری ششماہی میں فراہم کیا جائے گا۔

ٹیکنالوجی شیئرز میں تیزی سے فنڈز کی آمد جاری ہے، جس نے کئی ایشیائی مارکیٹوں میں چپ سیکٹر کو تقویت دی۔

مزید پڑھیں: پاک امریکا تجارتی معاہدے کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں تیزی

جنوبی کوریا کا انڈیکس اس ماہ تقریباً 9 فیصد بڑھ چکا ہے جبکہ جاپان کا نکی ستمبر میں اب تک 6.5 فیصد اوپر جا چکا ہے۔ تائیوان کا انڈیکس بھی قریب 7 فیصد بڑھا ہے۔

ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسیفک انڈیکس، جاپان کے علاوہ، 0.3 فیصد بڑھ کر ماہانہ بنیاد پر 5.5 فیصد بلند ہو گیا۔ چین کے بلیو چپ شیئرز میں بھی 0.1 فیصد کا معمولی اضافہ ریکارڈ ہوا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

100 انڈیکس آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن آئل مارکیٹنگ کمپنیاں آٹوموبائل پاکستان اسٹاک ایکسچینج پوائنٹس ٹیرف چپ سیکٹر ڈیٹا سینٹر سیمنٹ کمرشل بینکس

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 100 انڈیکس آئل مارکیٹنگ کمپنیاں آٹوموبائل پاکستان اسٹاک ایکسچینج پوائنٹس ٹیرف ڈیٹا سینٹر

پڑھیں:

فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان

پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘  کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔

رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر