پاک،سعودیہ تاریخی دفاعی معاہدہ مسلم امہ کیلئے کامیابی کی نوید ہے،فیصل معیز خان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(کامرس رپورٹر)نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری(نکاٹی)کے صدر فیصل معیز خان نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدے پر دستخط کو مسلم امہ کیلئے کامیابی کی نوید قرار دیا ہے۔فیصل معیز خان نے کہا کہ پاکستان نہ صرف جوہری صلاحیت کا حامل ملک ہے بلکہ اسلامی دنیا کی سب سے بڑی فوج کا مالک بھی ہے جو روایتی طور پر بھارت کے ساتھ اپنی دشمنی پر مرکوز رہی ہے، یہ معاہدہ برسوں پر محیط اسٹریٹجک مکالمے کا نتیجہ ہے۔صدر نکاٹی نے کہا کہ پاکستان اور مملکت سعودی عرب کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدے پر دستخط کے بعد مسلم دنیا کے بڑے حصے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور بے شمار مسلم ممالک اس معاہدے کا حصہ بننے کی خواہش ظاہر کررہے ہیں ،اس معاہدے پر دستخط ہوتے ہی مغربی دنیا اور ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں ، پاک سعودیہ معاہدے سے بھارت کو ہونے والی پریشانی فطری ہے، تاہم سعودی عرب یہ واضح کرچکا ہے کہ یہ ایک جامع دفاعی معاہدہ ہے جو تمام فوجی ذرائع کا احاطہ کرتا ہے اور یہ کسی مخصوص ملک یا واقعے کے خلاف نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اور گہرے تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کا عمل ہے۔ فیصل معیزخان نے مزید کہاکہ دفاعی معاہدے نے پاکستان اور سعودی عرب کو ضابطے کا پابندکیا ہے،دونوں ممالک کا دفاعی معاہدہ ایک سنگ میل ہے اورمیں دفاعی معاہدے پر نارتھ کراچی کے تاجروں اور صنعتکارو کی جانب سے وزیراعظم میاں شہبازشریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو مبارکباد پیش کرتاہوں،ہم سمجھتے ہیں کہ یہ معاہدہ پاکستان کے لیے ایک مضبوط اقتصادی و معاشی تعاون کی بنیاد بھی بنے گا ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دفاعی معاہدے معاہدے پر
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔