data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(کامرس رپورٹر)نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری(نکاٹی)کے صدر فیصل معیز خان نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدے پر دستخط کو مسلم امہ کیلئے کامیابی کی نوید قرار دیا ہے۔فیصل معیز خان نے کہا کہ پاکستان نہ صرف جوہری صلاحیت کا حامل ملک ہے بلکہ اسلامی دنیا کی سب سے بڑی فوج کا مالک بھی ہے جو روایتی طور پر بھارت کے ساتھ اپنی دشمنی پر مرکوز رہی ہے، یہ معاہدہ برسوں پر محیط اسٹریٹجک مکالمے کا نتیجہ ہے۔صدر نکاٹی نے کہا کہ پاکستان اور مملکت سعودی عرب کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدے پر دستخط کے بعد مسلم دنیا کے بڑے حصے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور بے شمار مسلم ممالک اس معاہدے کا حصہ بننے کی خواہش ظاہر کررہے ہیں ،اس معاہدے پر دستخط ہوتے ہی مغربی دنیا اور ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں ، پاک سعودیہ معاہدے سے بھارت کو ہونے والی پریشانی فطری ہے، تاہم سعودی عرب یہ واضح کرچکا ہے کہ یہ ایک جامع دفاعی معاہدہ ہے جو تمام فوجی ذرائع کا احاطہ کرتا ہے اور یہ کسی مخصوص ملک یا واقعے کے خلاف نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اور گہرے تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کا عمل ہے۔ فیصل معیزخان نے مزید کہاکہ دفاعی معاہدے نے پاکستان اور سعودی عرب کو ضابطے کا پابندکیا ہے،دونوں ممالک کا دفاعی معاہدہ ایک سنگ میل ہے اورمیں دفاعی معاہدے پر نارتھ کراچی کے تاجروں اور صنعتکارو کی جانب سے وزیراعظم میاں شہبازشریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو مبارکباد پیش کرتاہوں،ہم سمجھتے ہیں کہ یہ معاہدہ پاکستان کے لیے ایک مضبوط اقتصادی و معاشی تعاون کی بنیاد بھی بنے گا ۔

کامرس رپورٹر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: دفاعی معاہدے معاہدے پر

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل