ٹیکس چوروں کی نشاندہی پر انعام کی رقم 15 کروڑ روپے کرنے کی تجویز
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
چیف کمشنر انکم ٹیکس عائشہ فاروق نے ٹیکس چوروں کی نشاندہی پر انعام کی رقم بڑھا کر 15 کروڑ روپے کرنے کی تجویز دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق چیف کمشنر انکم ٹیکس عائشہ فاروق نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو خط لکھ دیا۔ خط میں نشاندہی کی گئی کہ سالانہ انکم ٹیکس گوشواروں میں بہت سے ٹیکس دہندگان غلط یا گمراہ کن معلومات فراہم کرتے ہیں۔ خط میں کہا گیا کہ لوگ مہنگے گھروں میں رہتے ہیں، دن رات ایئرکنڈیشن استعمال کرتے ہیں، مہنگی گاڑیاں، برانڈڈ کپڑے، گھڑیاں اور زیورات استعمال کرتے ہیں لیکن اُن کے گوشوارے افسانے لگتے ہیں، ان کی آمدنی اور ادا کردہ ٹیکس ان کے طرز زندگی کی عکاسی نہیں کرتا۔ عائشہ فاروق نے کہا کہ پاکستان کی معیشت بڑی حد تک غیر دستاویزی ہے، پاکستان میں آمدن اور ٹیکسز زیادہ ہیں، کسی کی مالی حیثیت کا درست اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ ایف بی آر کو پڑوسیوں، خاندان اور دوستوں کے ان پٹ استعمال کرنا ہوں گے۔ سماجی معلومات سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے مناسب فریم ورک کا ہونا ضروری ہے، ایف بی آر 2025 کے لیے جمع کرائے گئے ٹیکس گوشواروں سے فائدہ اٹھائیں، مثبت رویہ اختیار کرنے والے ٹیکس دہندگان کو پرانے سالوں کا آڈٹ نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی جائے۔ چیف کمشنر آف انکم ٹیکس نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور قومی معیشت کو دستاویزی شکل دینے کیلئے ایف بی آر کو 2025 کے لیے جمع کرائے گئے گوشواروں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: انکم ٹیکس ایف بی آر
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔