سندھ میں 35 ہزار والدین نے بچوں کو پولیو ویکسین پلانے سے انکار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی میں پولیو کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں کو والدین کے بڑھتے ہوئے انکار نے شدید دھچکا پہنچایا ہے، جہاں حالیہ پولیو مہم کے دوران لگ بھگ 35 ہزار والدین نے اپنے بچوں کو پولیو ویکسین پلوانے سے صاف انکار کر دیا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انسداد پولیو کی یہ مہم ایمرجنسی آپریشن سینٹر کی زیر نگرانی چلائی گئی، جس میں شہر کے مختلف اضلاع میں انکار کی شرح میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا۔
وزارتِ صحت کے ذرائع کے مطابق سب سے زیادہ انکار کراچی کے ضلع شرقی میں سامنے آیا، ضلع شرقی میں 8 ہزار سے زائد والدین نے اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار کر دیا۔
ذرائع کے مطابق سندھ کے 25 اضلاع میں انسدادِ پولیو مہم یکم سے 7 ستمبر تک جاری رہی، جس کے دوران کراچی میں 21 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف رکھا گیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس صورتِ حال سے نہ صرف شہر بلکہ ملک بھر میں پولیو کے خاتمے کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں، جس کے لیے فوری اور مربوط آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے تاکہ والدین کو اس مہلک مرض کے خطرات اور ویکسین کی افادیت سے آگاہ کیا جا سکے۔
دوسری جانب قومی ادارہ صحت نے حیدرآباد میں ایک بچے میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد رواں سال ملک بھر میں پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 27 تک پہنچ گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق سندھ سے اب تک 7، خیبر پختونخوا سے 18، جبکہ پنجاب اور گلگت بلتستان سے ایک ایک کیس رپورٹ ہو چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بچوں کو پولیو میں پولیو کے مطابق
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔