جعفر ایکسپریس ایک بار پھر تخریب کاری کا شکار، 12 مسافر زخمی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
پشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس مستونگ پہنچی تو ٹریک پر دھماکا ہوا۔ جسکے نتیجے میں ٹرین کی پانچ بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں، جبکہ ایک بوگی پٹڑی سے اترکر الٹ گئی۔ جسکے نتیجے میں بارہ مسافر معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے دشت میں ریلوے ٹریک پر دھماکے کے بعد پشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس کی پانچ بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں، جبکہ ایک الٹ گئی۔ بارہ مسافر معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ ریلوے حکام کے مطابق پشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس منگل کی شام سات بجے مستونگ کے علاقے دشت پہنچی تو ٹریک پر دھماکا ہوا۔ جس کے نتیجے میں ٹرین کی پانچ بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں، جبکہ ایک بوگی پٹڑی سے اترکر الٹ گئی۔ جس کے نتیجے میں بارہ مسافر معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ جن کو موقع پر طبی امداد فراہم کردی گئی۔ واقعہ کے بعد لیویز اور ایف سی حکام موقع پر پہنچ گئے اور مسافروں کو کوئٹہ منتقل کردیا گیا۔ دوسری جانب ڈی ایس ریلویز کوئٹہ عمران حیات کی سربراہی میں امداد ی ٹیمیں حادثے کے مقام پر پہنچ گئیں اور ٹریک کی بحالی کیلئے اقدامات شروع کر دئیے گئے ہیں۔ سکیورٹی فورسز ذرائع کی ابتدائی معلومات کے مطابق دھماکہ ٹریک پر نصب ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے کیا گیا، جس میں چار سے پانچ کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جعفر ایکسپریس کے نتیجے میں ٹریک پر پٹڑی سے
پڑھیں:
غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔
آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔
اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔
آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
غذائی قلت غزہ فلسطین