وزیراعظم نے وفاقی وزراء کو عوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کا اختیار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی ہدایت پر آزاد جموں و کشمیر میں جاری عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت کے درمیان تنازع کے حل کے لیے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔
وزیر اعظم آفس سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام اور وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کو مذاکرات کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ دونوں وزرا کل مظفرآباد پہنچیں گے جہاں وہ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومتی مذاکراتی ٹیموں سے ملاقات کریں گے۔
مزید پڑھیں: گلگت بلتستان میں سراپا احتجاج عوامی ایکشن کمیٹی کے 3 بڑے مطالبات کیا ہیں؟
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والے حالات کو خوش اسلوبی اور پُرامن طریقے سے سلجھایا جائے اور اس مقصد کے لیے وفاقی سطح پر ہر ممکن تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔ حکومت آزاد جموں و کشمیر کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مذاکراتی عمل میں مکمل تعاون فراہم کرے۔
مزید پڑھیں: عوامی ایکشن کمیٹی کو بھارت فنڈنگ کررہا ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر کا الزام
سیاسی مبصرین کے مطابق وزیر اعظم کا یہ اقدام براہِ راست مداخلت کے ذریعے تنازع کو شدت اختیار کرنے سے روکنے اور مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
واضح رہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے 29 ستمبر کو لاک ڈاؤن کی کال دے رکھی ہے جس کے باعث خطے میں تناؤ بڑھ رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزرا کی مظفرآباد آمد سے مذاکراتی عمل میں تیزی آنے اور بحران کے حل کے لیے کوئی قابلِ قبول فارمولا طے پانے کی امید کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزاد جموں و کشمیر امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام طارق فضل چوہدری عوامی ایکشن کمیٹی مذاکرات وزیراعظم پاکستان وزیراعظم پاکستان شہباز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امور کشمیر و گلگت بلتستان طارق فضل چوہدری عوامی ایکشن کمیٹی مذاکرات وزیراعظم پاکستان وزیراعظم پاکستان شہباز شریف عوامی ایکشن کمیٹی کے لیے
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔