روس نے فضائی حدود کی خلاف ورزی کے پولینڈ الزامات مسترد کردیے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماسکو: روس نے پولینڈ کے وزیرِ خارجہ رادوسلاو سیکورسکی کے ان بیانات پر سخت ردعمل دیا ہے جن میں انہوں نے روس پر اپنی فضائی حدود کی مبینہ خلاف ورزی کا الزام لگایا تھا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ماسکو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ الزامات کسی بھی قائل کرنے والے ثبوت سے عاری ہیں، روس فضائی پروازوں کے اصولوں کی پابندی کرتا ہے اور کسی بھی خلاف ورزی کی بات درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے عسکری حکام بارہا واضح کر چکے ہیں کہ جب بھی ہماری پروازیں کی جاتی ہیں تو وہ عالمی قوانین کے مطابق ہوتی ہیں اور کسی بھی طرح اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرتیں، پولینڈ کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کے پاس کوئی قوی شہادت موجود نہیں۔
پیسکوف نے مزید کہا کہ روس نے استونیائی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے الزامات کی بھی تردید کی ہے جبکہ پولینڈ کے معاملے میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی واقعہ پیش بھی آیا ہو تو وہ دانستہ نہیں تھا، رومانیہ کے الزامات کو بھی روس نے مسترد کرتے ہوئے یوکرین کی جانب سے ’’اشتعال انگیزی‘‘ قرار دیا۔
پریس کانفرنس میں ایران کے ساتھ نئے نیوکلیئر پاور یونٹس کی تعمیر کے تعاون سے متعلق سوال پر پیسکوف نے تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ جمعرات کو ہونے والے عالمی ایٹمی فورم میں اس موضوع پر بات ہوگی۔
انہوں نے اسٹریٹجک ہتھیاروں میں کمی کے معاہدے (نیو اسٹارٹ) کی توسیع کے امکان پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان گفتگو ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس ایک سال تک معاہدے کی مرکزی حدود پر قائم رہنے کے لیے تیار ہے لیکن اس کے لیے امریکا کا بھی متبادل موقف ضروری ہے۔
پیسکوف نے واضح کیا کہ معاہدے کی مدت 2026 میں ختم ہو رہی ہے اور اس سے پہلے نیا اتفاق رائے ممکن نظر نہیں آتا، تاہم روس اس حوالے سے امریکی قیادت کے ساتھ رابطوں کے لیے کھلا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خلاف ورزی پیسکوف نے کرتے ہوئے کہا کہ
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔