ناروے کے دارالحکومت میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب دھماکہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
یروشلم پوسٹ کے مطابق ناروے پولیس نے بتایا ہے کہ وہ وسطی اوسلو میں اسرائیلی سفارت خانے سے تقریباً 500 میٹر کے فاصلے پر ہونے والے ایک دھماکے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ صہیونی غاصب ریاست اسرائیل کیخلاف پوری دنیا میں عوامی سطح پر نفرت کے اظہار کا سلسلہ جاری ہے۔ منگل کی رات ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب ایک دھماکہ ہوا ہے۔ اوسلو کے علاقے پلسٹیڈ میں دھماکے کے بعد امدادی کارکنوں کو جائے وقوعہ کی جانب روانہ کر دیا گیا۔۔ پولیس نے کہا کہ صورتحال غیر واضح ہے اور حکام کا جائے وقوعہ پر آپریشن جاری ہے۔ یروشلم پوسٹ کے مطابق ناروے پولیس نے بتایا ہے کہ وہ وسطی اوسلو میں اسرائیلی سفارت خانے سے تقریباً 500 میٹر کے فاصلے پر ہونے والے ایک دھماکے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ پولیس نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ علاقے سے دور رہیں کیونکہ وہاں دھماکہ خیز مواد کا زیادہ امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔